اسرائیلی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی مسودے تک اسرائیلی رسائی کی درخواست مسترد کردی ہے، جس پر اسرائیلی حکام نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔
امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اسرائیل کو فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات سے متعلق مفاہمتی یادداشت تک رسائی کی باضابطہ درخواست کی تھی، تاہم واشنگٹن نے اسے مسترد کردیا۔
Trump admin rejected Israel's request to see Iran deal text: report https://t.co/m7iAo9XUsw pic.twitter.com/I0C0IV8kRf
— New York Post (@nypost) June 16, 2026
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق حساس نوعیت کا ہے، اس لیے معاہدے کی مکمل تفصیلات اسرائیل کے ساتھ شیئر نہیں کی جاسکتیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی فیصلے نے تل ابیب کے حکام کو حیران کر دیا، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق امور پر طویل عرصے سے قریبی مشاورت رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ایک 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں امریکی بحری ناکہ بندی 30 دن کے اندر ختم کرنے، جبکہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں معطل کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ معاہدے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کی شق بھی شامل ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مسودے کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر تک کی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ امریکا مذاکرات سے قبل 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔
مجوزہ معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اتحادی گروپوں کی حمایت کو حتمی مذاکرات کا حصہ بنانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جبکہ کسی بھی حتمی سمجھوتے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کیے جانے کی تجویز شامل ہے۔














