کینیڈا میں امیگریشن کے نئے قوانین کے تحت شہریت حاصل کرنے والے بعض افراد کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ امیگریشن حکام نے متعدد کیسز کو دوبارہ کھول کر جانچ شروع کر دی ہے۔
امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں ایسے افراد کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں جنہیں پہلے ہی کینیڈین شہریت کے سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے تھے۔ ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ درخواستوں کو ’دوبارہ جائزے‘ کے لیے کھولا جا رہا ہے اور بعض صورتوں میں شہریوں سے شہریت کے دستاویزات واپس جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ ممالک جن کی شہریت پیسے دے کر خریدی جا سکتی ہے؟
رپورٹس کے مطابق یہ نوٹس زیادہ تر ان افراد سے متعلق ہیں جنہوں نے حالیہ قانون میں تبدیلیوں کے بعد کینیڈین والدین کے ذریعے پیدائش کی بنیاد پر شہریت حاصل کی تھی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب کینیڈا نے دسمبر 2025 میں شہریت سے متعلق قوانین میں اہم ترامیم کی تھیں جن کے بعد بیرونِ ملک مقیم کینیڈین شہریوں کی اولاد کے لیے شہریت حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو گیا تھا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں شہریت کے سرٹیفکیٹس کے لیے درخواستوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث بعض کیسز کی پروسیسنگ مدت 15 ماہ تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دلجیت دوسانجھ نے انڈیا چھوڑ کر امریکی شہریت حاصل کر لی؟
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی کیس کا دوبارہ جائزہ شروع ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ شہریت لازمی طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔ عام طور پر ایسے معاملات میں درخواست دہندگان کو اضافی دستاویزات فراہم کرنے یا وضاحت دینے کا موقع دیا جاتا ہے۔
کینیڈا کے قانون کے مطابق شہریت صرف اسی صورت میں منسوخ کی جا سکتی ہے جب یہ ثابت ہو کہ اسے دھوکہ دہی، غلط بیانی یا کسی اہم حقیقت کو چھپانے کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو۔ اس صورت میں باقاعدہ قانونی کارروائی کی جاتی ہے اور متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی شہریت اختیار کرنے پر یوکرینی ڈائیور پر ’اسپورٹس قرنطینہ‘ کی سفارش کیوں؟
تاحال اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ کتنے افراد اس نئے جائزہ عمل سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ IRCC کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کینیڈا کے امیگریشن نظام پر بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے جہاں حکام توسیع شدہ شہریت کے قوانین اور سسٹم کی شفافیت برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امیگریشن وکلا نے متاثرہ افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے نوٹسز کا فوری جواب دیں، تمام متعلقہ دستاویزات جمع کریں اور ضرورت پڑنے پر قانونی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔














