اسرائیلی فضائیہ ایران پر بڑے حملے کے لیے تیار، کارروائی آخری لمحے میں کیوں منسوخ کی گئی؟

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اومر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ 8 جون کو ایران کے خلاف ایک وسیع فضائی کارروائی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں، تاہم پرواز سے محض ایک گھنٹہ قبل یہ آپریشن روک دیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فضائیہ کا یمن سے داغا گیا میزائل مار گرانے کا دعویٰ

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے ایران کے اندر سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کا منصوبہ بنایا تھا۔

جنرل ٹشلر نے فضائیہ کے اہلکاروں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پورا فضائی بیڑا حملے کے لیے تیار تھا اور اسکواڈرنز کو بریفنگ بھی دی جا چکی تھی، لیکن آخری لمحے میں کارروائی منسوخ کر دی گئی۔

اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اومر ٹشلر

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت (Ynet) کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو پر شدید دباؤ ڈالا اور ایران پر بڑے حملے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ اس سے خطے میں وسیع جنگ بھڑکنے اور تہران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی فوج کا غزہ پر نیا حملہ، جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی

رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اسرائیل کو اس کے نتائج کا سامنا تنہا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں مجوزہ فضائی آپریشن کو آخری وقت میں روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp