امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے کو دنیا کے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم ترین ڈیل کو ممکن بنانے میں پاکستان کا بڑا ہاتھ ہے اور قطر نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
جی-7 اجلاس کے بعد ایک خصوصی اور تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر یہ ڈیل نہ ہوتی تو آبنائے ہرمز کبھی نہ کھلتا، جس سے دنیا شدید ترین معاشی کساد بازاری کا شکار ہو جاتی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی سالگرہ کی تقریب پر ڈرون حملے کا بڑا منصوبہ ناکام، 5 دہشتگرد گرفتار
ان کا کہنا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہتی تو دنیا کو 1929 کی عظیم کساد بازاری جیسی سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے اور اس راستے کی بندش کے عالمی معیشت پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوتے۔
انہوں نے پاکستان اور قطر کے رہنماؤں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ایک ایسا بڑا کام ہونے جا رہا ہے جس پر کسی کو یقین نہیں آئے گا۔
ایران میں رجیم چینج اور نئی قیادت کا رویہ
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران میں اب رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) ہو چکی ہے، ان کی پرانی قیادت ختم اور اب ایک نئی قیادت آ چکی ہے جو کہ بہت اسمارٹ ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب ایرانی رہنما بالکل مختلف اور مثبت انداز میں برتاؤ کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی عسکری صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی بحریہ اور فضائیہ اس وقت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ ڈیل نہ کرتے تو بمباری کا سلسلہ ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہتا، لیکن میں جنگ کو طول دے کر عالمی معیشت کو زبوں حالی کا شکار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جیسے ہی ہم نے امن کی بات کی، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس راکٹ کی طرح اوپر چلی گئیں اور اب تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئی ہیں‘۔
جوہری ہتھیاروں کی روک تھام اور معاہدے پر دستخط
ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اتوار کو طے پانے والی اس ڈیل پر انتہائی جلد، ممکنہ طور پر رواں ہفتے جمعے کو دستخط ہو جائیں گے، جبکہ جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت کا بھی فوری آغاز ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران معاہدہ ابھی حتمی نہیں، شرائط پوری نہ ہونے پر فوجی کارروائی کا آپشن موجود رہےگا، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ ایران اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ وہ نہ تو کبھی ایٹم بم بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ہم ایران سے تمام افزودہ جوہری مواد نکال کر اسے ناکارہ بنائیں گے۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روک کر ہم نے پوری دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جی-7 ممالک نے اس ڈیل کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے اور کسی ایک ملک نے بھی بمباری جاری رکھنے کا مطالبہ نہیں کیا۔
تاہم امریکی صدر نے سخت وارننگ بھی دی کہ اگر ایران نے معاہدے کا احترام نہ کیا تو ہم دوبارہ بمباری پر واپس جائیں گے اور یہ بمباری تب تک نہیں رکے گی جب تک وہ دوبارہ سیدھے راستے پر نہیں آ جاتے۔
نیتن یاہو سے اختلافات اور لبنان کی صورتحال
لبنان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو بعض اوقات کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو جاتے ہیں، اگرچہ وہ ایک اچھے ساتھی رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور وہ حزب اللہ کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا تھا، لیکن بیروت کی رہائشی عمارتوں کو اس طرح تباہ کرنا بالکل ٹھیک نہیں۔ ہم لبنان میں امن کے لیے بھرپور کام کریں گے‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔
ایران کی تعمیرِ نو اور سرمایہ کاری
ایران کے مستقبل کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کوئی سرمایہ کاری یا فنڈز فراہم نہیں کرے گا، کیونکہ جنگ کی وجہ سے ایران کو تقریباً 2 ٹریلین ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اسے سرمائے کی شدید ضرورت ہے۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ ایران کے پڑوسی ممالک اور خلیجی ریاستیں ایران میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہشمند ہیں اور ہم خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے نان نیوکلیئر (غیر جوہری) معاملات پر بھی مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل گئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوتی تو آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے کی ضمانت دینا ممکن نہ ہوتا۔
مزید پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا، وزیراعظم شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کردی
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہے اور اس سلسلے میں سفارتی اور اسٹرٹیجک اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور توانائی کی سپلائی کے تسلسل نے عالمی منڈیوں کا اعتماد بحال کیا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان
ٹرمپ نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس سے مختلف ممالک کی معیشتوں اور عام صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی منڈیوں میں استحکام عالمی اقتصادی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے اور امریکا اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے، اس لیے اس راستے کی صورتحال پر عالمی منڈیاں مسلسل نظر رکھتی ہیں۔














