ناٹنگھم شائر کے تاریخی شیرووڈ جنگل میں واقع دنیا کے مشہور ترین اور قدیم ترین بلوط کے درختوں میں شمار ہونے والا ’میجر اوک‘ تقریباً ایک ہزار سال بعد مکمل طور پر مرجھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اس تاریخی درخت پر رواں سال ایک بھی نیا پتہ نہیں آیا جس کے بعد ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ درخت اپنی قدرتی زندگی مکمل کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں مسلسل شدید گرمی، خشک موسم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درخت شدید دباؤ کا شکار رہا جس کے نتیجے میں وہ زندہ نہ رہ سکا۔
میجر اوک یورپ کے قدیم ترین، بڑے اور مشہور درختوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کا تنا تقریباً 11 میٹر چوڑا جبکہ اس کی شاخیں 28 میٹر تک پھیلی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے یہ ہر سال ہزاروں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا تھا۔
یہ تاریخی درخت برطانوی لوک داستانوں کے مشہور کردار رابن ہڈ سے بھی منسوب ہے۔ روایت ہے کہ اگرچہ رابن ہڈ کے دور میں درخت اندر سے کھوکھلا نہیں تھا تاہم اسی درخت نے رابن ہڈ اور اس کے ساتھیوں کو شیرف آف ناٹنگھم سے بچنے کے لیے پناہ فراہم کی تھی۔
مزید پڑھیے: شگری بالا کے قدیم درخت کیسے اُگے، لوگ وہاں کیوں جاتے ہیں؟
ووڈ لینڈ ٹرسٹ نے سنہ 2014 میں میجر اوک کو سال کا بہترین درخت قرار دیا تھا۔ ادارے کے مطابق درخت کو قدرتی عوامل کے ساتھ ساتھ حد سے زیادہ سیاحتی سرگرمیوں نے بھی نقصان پہنچایا۔
ووڈ لینڈ ٹرسٹ کے سینئر کنزرویشن ایڈوائزر ایڈ پائن نے کہا کہ میجر اوک کا خاتمہ ایک واضح انتباہ ہے کہ اگر قدیم درختوں کے تحفظ پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آئندہ نسلیں بھی ایسے تاریخی ورثے سے محروم ہو جائیں گی۔
دوسری جانب رائل سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز کے مقامی منتظم نے درخت کے سوکھ جانے کو ’دل توڑ دینے والا‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ درخت اب زندہ نہیں رہا تاہم اسے جنگل میں ایک تاریخی یادگار اور جنگلی حیات کے مسکن کے طور پر محفوظ رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: دنیا کے قدیم اور بلند ترین 22 سو برس کے درخت کو صحت مند قرار دیدیا گیا
واضح رہے کہ ماضی میں سیاح اس درخت کے بالکل قریب جا سکتے تھے بلکہ اس کے کھوکھلے تنے کے اندر بھی داخل ہوتے تھے تاہم سنہ 1970 کی دہائی میں اس کے گرد حفاظتی باڑ لگا دی گئی تھی جس کے بعد سے اسے صرف فاصلے سے دیکھا جا سکتا تھا۔














