ملازمت کے سفر اور کیریئر کی منازل طے کرتے ہوئے ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں جانا ایک معمول کا حصہ ہے۔ لیکن استعفیٰ دینے کے بعد کا یہ مرحلہ (نوٹس پیریڈ) انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ آپ کا موجودہ ادارہ اس دوران آپ سے ایک ذمہ دارانہ رویے کی توقع رکھتا ہے۔ آپ میں سے اکثر لوگوں نے بحیثیت ایمپلائر، ایمپلائی، استعفیٰ دینے والے، یا پھر پیچھے رہ جانے والے آفس کولیگ کے طور پر اس منظرنامے کو مختلف زاویوں سے دیکھا ہوگا۔
یہ نوٹس پیریڈ دراصل ایک ایسی تعریفی سند ہے، جو آپ کسی دوسرے سے نہیں لیتے بلکہ اپنے عمل سے خود لکھ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر خود سے سوال کیجیے کہ آپ نے اپنے آخری مہینے یا نوٹس پیریڈ کو کتنی ذمہ داری سے گزارا؟
بدقسمتی سے اکثر لوگ جب ایک جگہ سے استعفیٰ دے کر دوسری جگہ جانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، تو نوٹس پیریڈ کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ کبھی وقت پر نہ آنا، کام ادھورے چھوڑ دینا اور ذمہ داری نبھانے کے بجائے بس دن پورے کرنا ان کا معمول بن جاتا ہے۔ یاد رکھیے، یہی وہ وقت ہوتا ہے جو کسی بھی فرد کے حقیقی طور پر ذمہ دار ہونے کا پتا دیتا ہے۔
کسی بھی انسان کے اصل پروفیشنلزم، اخلاقیات اور کردار کا اصل امتحان اس کا نوٹس پیریڈ ہی ہوتا ہے۔ جب ملازم نئی جگہ جانے کا فیصلہ کر لیتا ہے، تو پرانی جگہ سے اس کا دل اور توجہ ہٹنا فطری ہے، لیکن ایک بہترین اور مخلص انسان وہی ہے جو رخصت ہوتے ہوئے بھی اپنے کام کو اسی خوبصورتی اور ایمانداری سے مکمل کرے جیسے وہ عام دنوں میں کرتا تھا۔
نوٹس پیریڈ میں لاپروائی کے نقصانات
ساکھ کی خرابی: ادھورے کام چھوڑ کر جانے سے مارکیٹ میں آپ کا پیشہ ورانہ تاثر (Impression) مستقل طور پر خراب ہوتا ہے۔
پیشہ ورانہ تعلقات کا خاتمہ: پرانے ساتھی اور مینیجرز مستقبل میں آپ کے کام آ سکتے ہیں، لیکن آخری دنوں کا خراب رویہ ان دیرینہ تعلقات کو ختم کر دیتا ہے۔
رزق کی برکت: جب آپ نوٹس پیریڈ کے دنوں کی پوری تنخواہ لے رہے ہوں، تو کام چوری کرنا اخلاقی اور مذہبی طور پر درست نہیں۔
ذمہ دار فرد کی نشانیاں
کام کی منتقلی (Handover): وہ اپنے تمام پینڈنگ کام اور فائلیں اپنے بعد آنے والے ساتھی کو اچھے طریقے سے سمجھا کر جاتا ہے۔
حاضری کی پابندی: نوٹس پیریڈ کے آخری دن تک اپنی حاضری اور وقت کی پابندی کو برقرار رکھتا ہے۔
خوشگوار رخصتی: وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ادارے سے جاتے ہوئے سب کے دلوں میں اس کی عزت اور اچھے کام کی یاد باقی رہے۔
کسی نے سچ کہا ہے کہ ’شروعات تو ہر کوئی اچھی کر لیتا ہے، اصل کمال یہ ہے کہ آپ کا اختتام کتنا بہترین اور باوقار ہے‘۔
ان ساری باتوں کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے جب آپ یہ ساری گفتگو ہیلتھ کئیر مینیجمنٹ کے تناظر میں کر رہے ہوں۔
ذرا ماضی کے اس وقت کو یاد کیجیے جب آپ کو ملازمت کی سخت ضرورت تھی اور آپ شدید ذہنی کرب اور آزمائش میں مبتلا تھے۔ یہاں تک کہ آپ کا خود پر سے اعتماد بھی متزلزل ہو رہا تھا۔ ایسے مشکل وقت میں اسی موجودہ ادارے نے آپ کو موقع دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو دروازہ کھولا، وہ اس کی ایک بڑی نعمت تھی۔ اب جاتے ہوئے اس نعمت پر شکرگزاری کا دامن چھوڑ دینا ایک خطرناک بات ہے، کیونکہ جو انسان بندوں کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا شکرگزار بھی نہیں ہو سکتا۔
نوٹس پیریڈ میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا، دراصل اسی شکرگزاری کے برعکس رویہ ہے۔ سوچیے اور فیصلہ کیجیے! آپ کن لوگوں میں شمار ہونا پسند کریں گے؟ اللہ کے شکرگزار بندوں میں یا ناشکروں میں؟
تعارف:
ڈاکٹر ظفر اقبال ہیلتھ کئیر منیجمنٹ اور کوالٹی امپروومنٹ سے وابستہ ہیں۔ ان کی بنیادی فکری و تحقیقی دلچسپی اخلاقی طبی پریکٹس، ہیلتھ کیئر مینجمنٹ، کوالٹی امپرومنٹ، قومی و تہذیبی امور اور اقبالیات ہے اس مقصد کے لئے ‘کاروانِ اقبال’ نامی معاون فورم کے کوآرڈینیٹر بھی ہیں، جو علامہ اقبال کے کلام، فکر اور پیغام کو سمجھنے اور پھیلانے کے لیے وقف ہے۔
ان سے لنکڈ ان (https://www.linkedin.com/in/dr-zafar-iqbal-1b02b48/) یا ای میل ([email protected]) کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













