خیبر پختونخوا کا خسارے کا بجٹ، کیا صوبہ منی بجٹ لائے گا؟

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27کے لیے 2 ہزار 170 ارب روپے سے زیادہ حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا۔

بجٹ کے اہم خدوخال

بجٹ میں کسی قسم کا نیا ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل نہیں ہے، جبکہ بعض ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 524 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ جاری اخراجات کے لیے 1 ہزار 645 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا کا 2 ہزار 170 ارب روپے کا بجٹ پیش، 50 ارب روپے خسارہ، ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب مختص

بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ محصولات کا تخمینہ 2 ہزار 82 ارب روپے رکھا گیا ہے، جس کے باعث بجٹ میں 88 ارب روپے کے خسارے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط اور ماہرین کی رائے

پشاور کے سینئر صحافی منظور علی کے مطابق صوبے کی جانب سے خسارے کا بجٹ پیش کرنا حیران کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے تحت صوبے خسارے کا بجٹ پیش نہیں کر سکتے، بلکہ انہیں وفاق کو سرپلس (اضافی رقم) دینا ہوتا ہے۔ انہوں نے بجٹ میں خسارے کے دعوے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیا۔ منظور علی کے مطابق، رواں مالی سال میں خیبر پختونخوا نے 157 ارب روپے کا سرپلس دیا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ کا مؤقف

اس حوالے سے جب صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم سے پوچھا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود صوبہ خسارے کا بجٹ کیسے پیش کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ صوبے کا اپنا بجٹ ہے اور وہ اپنی ضروریات اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ بنا سکتے ہیں۔

جب ان سے وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات میں 200 ارب روپے سرپلس دینے کی یقین دہانی کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ سرپلس عمران خان سے ملاقات سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان سے ملاقات ہو جاتی ہے تو صوبائی حکومت منی بجٹ لا کر سرپلس دینے کے لیے تیار ہے۔

بجٹ پر پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات

بجٹ کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ ناراض اراکین نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور اپنا الگ اجلاس منعقد کیا۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ وہ بجٹ کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کریں گے اور عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

 کیا اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ بدتمیزی کرنے سے سوالات کے بہتر جواب ملتے ہیں؟

ایس ایم ایز کو بڑا ریلیف، وزیراعظم کی قرضوں کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

بلیک ہول کا سراغ لگانے والی ناسا کی لیجنڈری ٹیلی اسکوپ زمین سے نہ بچ سکی، بے قابو حالت میں نیچے آکر بھسم

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟