چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات مکمل طور پر شفاف انداز میں کرائے گئے اور ان میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی، الزامات لگانے والے ثبوت پیش کریں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ الیکشن آئین اور قانون کے مطابق شفاف انداز میں منعقد کرائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خراب امن و امان کی صورتحال کے باوجود عوام کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلی، جو انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔
جسٹس (ر) مصطفیٰ مغل نے کہا کہ کوئی بھی شخص اگر دھاندلی کے الزامات عائد کرتا ہے تو وہ شواہد کے ساتھ انتخابی عذر داری (پٹیشن) دائر کر سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں دھاندلی سے متعلق بعض شکایات واٹس ایپ پر موصول ہوئیں، تاہم جب تک الزامات ثابت نہ ہوں، کوئی ادارہ یا عدالت ان کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ انتخابات پاک فوج اور رینجرز کی نگرانی میں کرائے جائیں، جس پر عمل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مظفرآباد میں چوہدری لطیف اکبر کے حلقے سے دھاندلی کی شکایات موصول ہوئیں، تاہم الیکشن کمیشن نے تمام انتخابی مراحل آئین اور قانون کے مطابق مکمل کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرپور ڈویژن میں بھی دھاندلی سے متعلق شکایات سامنے آئیں، تاہم ان کا تعین صرف شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ انتخابات کا تیسرا مرحلہ پہلے دو مراحل سے مختلف نوعیت کا ہے، امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر کچھ حلقوں میں انتخابات مؤخر کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔













