امریکی خلائی و ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس کے تاریخی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے بعد کمپنی کے بانی ایلون مسک سمیت ہزاروں موجودہ اور سابق ملازمین اور سرمایہ کاروں کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کے 12 جون 2026 کو ہونے والے ریکارڈ آئی پی او کے بعد کمپنی کی قدر 2 کھرب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ شیئرز کی قیمت میں اضافے کے باعث ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی شخص بن گئے، جبکہ اسپیس ایکس کے ہزاروں موجودہ اور سابق ملازمین بھی کروڑ پتی اور ارب پتی سرمایہ کاروں میں شامل ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کا امیر ترین شخص قرار، تاریخ کا پہلا کھرب پتی بننے کے بھی قریب
اسپیس ایکس میں طویل عرصے سے کام کرنے والے ملازمین، ابتدائی سرمایہ کاروں اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو اسٹاک ہولڈنگز کی وجہ سے بڑے مالی فوائد حاصل ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق 4 ہزار 400 سے زائد موجودہ اور سابق ملازمین کروڑ پتی بن گئے، جبکہ تقریباً 400 افراد کے حصص کی مالیت 100 ملین ڈالر یا اس سے زیادہ تک پہنچ گئی۔
اسپیس ایکس کا آئی پی او 75 ارب ڈالر کا رہا، جو دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی حصص فروخت کے معاملات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے حصص کی ابتدائی قیمت 135 ڈالر مقرر کی گئی تھی، جس کے بعد مارکیٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس نےعوامی پیشکش کا آغاز کر دیا
اسپیس ایکس کی صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر گوئن شاٹ ویل، ابتدائی سرمایہ کار انتونیو گریسیاس، سرمایہ کار اور بورڈ ممبر لیوک نوزیک سمیت متعدد دیگر شیئر ہولڈرز شامل ہیں، جن کے حصص کی مالیت میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق ہزاروں موجودہ اور سابق ملازمین بھی کروڑ پتی بن گئے ہیں۔
اسپیس ایکس کی کامیابی نے خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور نجی شعبے کی خلائی صنعت میں سرمایہ کاری کے نئے رجحانات کو مزید تقویت دی ہے، تاہم بعض ماہرین کمپنی کی بلند قدر اور مستقبل میں حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔














