جنوبی ایشیا میں پاکستان جنگ لڑ کر سرخرو ہے، مشرق وسطی میں پاکستان جنگ رکوا کر سرخرو ہے۔ یہ دونوں کامیابیاں حیران کن اور غیر معمولی ہیں۔ انسانی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی ملک نے صرف ایک سال کی قلیل مدت میں تزویراتی میدان سے لے کر سفارت کاری تک کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہوں۔
یہ اتنا آسان نہیں تھا، پاکستان نے ناخنوں سے یہ کنواں کھودا ہے، سال بھر پہلے ہی کی تو بات تھی، ہم کٹہرے میں کھڑے تھے اور دنیا سے ہمارے نام صرف روبکار آتی تھی، وقت کا موسم یوں بدلا ہے کہ اب قاصد آتا ہے تو مبارک سلامت کی صدائیں لگاتا آتا ہے۔ تشکر پاکستان، تھینک یو پاکستان، گاردشم پاکستان، مرحبا پاکستان۔
ہمارے ساتھ ایک بڑی خرابی یہ رہی کہ ہم پاکستانیوں نے پاکستان کو اکثر انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ ہمارے سیاسی بیانیہ میں بھی ملامتی رنگ غالب رہتا ہے، ہم نے رونے دھونے کو اپنا پسندیدہ مشغلہ بنا رکھا ہے۔ دہائی دینے میں اور کتھارسس کرنے میں ہمیں اتنا لطف آتا ہے کہ ہم ان چیزوں کی طرف توجہ کم ہی دیتے ہیں جہاں خوش ہوا جا سکے۔ ہم پاکستان کی کامیابیوں کو نہ درست تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ ان سے لطف اندوز ہو پاتے ہیں۔ اس وقت بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہمیں شاید درست ادراک ہی نہیں کہ معرکہ حق کتنی بڑی تزویراتی کامیابی تھی اور ایران امریکا امن معاہدہ ہماری کتنی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
مسائل کہاں نہیں ہوتے، ہر جگہ ہوتے ہیں، ہمارے ہاں بھی ہیں، انتظامی مسائل بھی ہیں، معاشی بھی ہیں اور گڈ گورننس کے ایشو بھی ہیں، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی قومی زندگی کے کارناموں کو بھی نظر انداز کردیں؟
اسی طرح سیاسی اختلافات بھی رہتے ہیں اور گاہے شدید بھی ہو جاتے ہیں لیکن کیا ریاست کی کسی غیر معمولی کامیابی سے صرف اس لیے صرف نظر کر لیا جائے کہ مسند اقتدار ہمارے ممدوح کے پاس نہیں ہے؟
توازن ہی زندگی ہے، اعتدال ہی مناسب رویہ ہے۔ قومی زندگی میں جہاں اصلاح کی ضرورت ہے، آواز اٹھائی جائے، جہاں تنقید بنتی ہے ضرور کی جائے لیکن جہاں تحسین بنتی ہے وہاں تحسین بھی کی جائے۔
بیمار رویے اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے خوشی کی کوئی خبر آئے تو کچھ لوگوں کے چہرے اتر جاتے ہیں۔ ان کے ہاں ایک نفسیاتی گرہ پڑ گئی ہے کہ اچھی خبر صرف تب آنی چاہیے جب زمام اقتدار ہمارے ممدوح کے پاس ہو، اگر ایسا نہیں تو پھر کوئی اچھی خبر آنی ہی نہیں چاہیے۔
اس وقت بھی دیکھیے، پاکستان کی کامیابی غیر معمولی ہے، اسے درست پیرائے میں سمجھنا ہے تو اسرائیل کے اخبارات کا مطالعہ کیجیے، اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیا کبھی آپ نے سوچا کہ کیوں؟
پاکستان نے اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا۔ اسرائیل کا بنیادی ہدف شاید یہی تھا، اسرائیل جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتا تھا لیکن پاکستان نے امریکا کو جنگ بندی پر راضی کر لیا، یہ پہلی بار ہوا کہ اسرائیل کے مقابل کسی اور ملک نے امریکا سے اپنی بات منوا لی ہو۔
ہمارے ہاں اپنی کامیابیوں کو نظر انداز کرنے کی یہ بیماری اب ایک عارضہ بن چکی ہے۔ اب ریاست کی بات کرنے والے کو گل خان کہا جاتا ہے۔ اب قومی مؤقف بیان کیا جائے تو ناتراشیدہ لہجے مطالعہ پاکستان کی پھبتی کستے ہیں، حقیقت مگر یہ ہے کہ پاکستان نے بہت سارے شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
آپ دیکھیے، اب تو سب کے سامنے ہے کہ ایٹمی طاقت بننا کتنا مشکل کام ہے اور کسی مسلمان ملک کے لیے ایٹمی قوت بننا تو نہایت ہی مشکل کام ہے، لیکن پاکستان ایٹمی قوت بنا۔ کیا یہ کوئی معمولی کامیابی ہے۔ جہالت کی حد ہے کہ دنیا کا واحد مسلمان ملک ہے جو ایٹمی قوت ہے اور اسی کو امریکا کی غلامی کے طعنے دیے جاتے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی مبادیات سے آگہی کے بغیر طوفان بدتمیزی مچا دیا جاتا ہے۔ امریکا سے تعلقات میں تناؤ سا آ جائے تو بھی شور مچا دیا جاتا ہے اور اگر پاکستان اپنی شاندار خارجہ پالیسی سے امریکا کو انگیج کر لے تو اسے امریکا کی غلامی کے طعنے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے مسائل میں گھرے ہوئے ملک نے طے کیا کہ اس نے امریکا کے ساتھ بگاڑنی نہیں اور چین کے ساتھ دوستی رکھنی ہے اور پھر پاکستان نے اس سفارتی توازن کا ہمیشہ قائم رکھا۔ کیا یہ معمولی بات ہے؟
یہی توازن پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے معاملے میں ایک اصول کے طور پر قائم رکھا اور اس کے ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں، کیا یہ معمولی کامیابی ہے؟
پاکستان ظاہر ہے کہ سپر پاور نہیں، اس کے اپنے معاشی اور تزویراتی مسائل ہیں، جب جب کوئی چیلنج سر پر پڑا اس نے اپنے انداز سے اسے نمٹانا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ امریکا کے مقابل ڈنڈا لے کر کھڑا ہو جائے۔ اس پر پاکستان کو کوسنے دیے جاتے ہیں کہ امریکا کے حکم پر چلتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ حقیقت مگر اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان براہ راست تصادم مول نہیں لیتا، حکمت سے راستہ تلاش کر لیتا ہے ، پہلو بچا جاتا ہے، لیکن پاکستان نے کیا ہمیشہ وہی ہے جو اس کے قومی مفاد میں ہو۔
اس وقت بھی جب پاکستان ثالثی کے لیے بروئے کار آیا، ایسی ہی بدگمانیوں کا اظہار کیا کیا گیا۔ کسی نے کہا پاکستان ایران کے خلاف استعمال ہوگا، کسی نے کہا یہ امریکا کو اڈے دے گا، کسی نے طعنہ دیا جو امریکا کہے گا یہ وہی کرے گا، کسی نے گرہ لگائی کہ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہت تعریفیں ہورہی ہیں یقیناً پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے۔ لیکن ہوا کیا؟ اس کے بالکل برعکس۔ پاکستان نے حکمت اور بصیرت سے کام لیا اور آج پاکستان سرخرو ہے۔
یہ سوال مگر اپنی جگہ موجود ہے کہ جنہوں نے اس دورانیے میں پاکستان کے بارے میں بدگمانیاں پھیلائیں اور طعنے دیے کیا وہ اس حرکت پر شرمندگی کا اظہار کریں گے۔
پاکستانیوں نے پاکستان کو بہت انڈر اسٹیمیٹ کیا، یہ نفسیاتی گرہ اب کھل جانی چاہیے۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو بلیو ایریا میں یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر ایک میں ایک چینی طالب علم عبدالرحمان میرا روم میٹ تھا۔ اسے ایک کمرشل پسند آ گیا جس میں ایک ریفریجریٹر کے تعارف میں کہا جاتا تھا: نام ہی کافی ہے۔ اردو اسے کم ہی آتی تھی لیکن اس فقرے کو اس نے تکیہ کلام بنا لیا: نام ہی کافی ہے۔ بعد میں یہ اس کی چھیڑ بن گئی: نام ہی کافی ہے۔
رات عبد الرحمان کا واٹس ایپ پر میسج آیا، لکھا تھا: برادر آصف، یؤر پاکستان: نام ہی کافی ہے۔
سوچ رہا ہوں کاش یہ بات برادر آصف کے اپنے ہم وطنوں کو بھی سمجھ آ جائے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













