حکومت پاکستان نے اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں بجلی کی 3 منافع بخش تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاروں کو 18 سے 20 فیصد تک منافع کی پیشکش کے ساتھ مسابقتی بجلی مارکیٹ میں بجلی کی خرید و فروخت کی مکمل آزادی دی جائے گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے نجکاری کمیشن کے بورڈ اجلاس کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت لین دین کے ڈھانچے اور شرائط میں ایسے اقدامات شامل کرے گی جن سے ایک طرف صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائےگا اور دوسری جانب سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال رہے گا۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیرخزانہ کا جینکو، ڈسکوز اور ایئر پورٹس کی نجکاری کا اعلان
انہوں نے کہاکہ یہ اقدامات پہلی ڈسکو کی بولی سے قبل ہی ٹرانزیکشن اسٹرکچر کا حصہ بنا دیے جائیں گے، کیونکہ ان کے بغیر نجکاری کا عمل ممکن نہیں ہوگا۔
فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی ڈسکوز نجکاری کے لیے تیار
محمد علی نے بتایا کہ نجکاری کمیشن نے فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی 3 ڈسکوز کے حوالے سے ملک کے 7 بڑے شہروں میں چیمبرز آف کامرس، صنعتوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ ابتدائی مارکیٹنگ مکمل کرلی ہے۔
ان کے مطابق اب اس مہم کو بین الاقوامی سطح پر توسیع دی جائے گی، جس میں خاص طور پر سعودی عرب، چین اور ترکیہ کے علاوہ قطر، بحرین، عمان اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں سرمایہ کاروں اور تکنیکی آپریٹرز سے رابطہ کیا جائے گا۔ یہ عمل ورچوئل ذرائع اور ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ نجکاری پروگرام کی عالمی سطح پر مؤثر انداز میں تشہیر ضروری ہے، جبکہ تمام ٹرانزیکشنز کی بنیاد 31 مارچ تک کے مالیاتی نتائج ہوں گے۔
نجکاری کا شیڈول جاری
نجکاری کمیشن نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 جولائی، گوجرانوالہ کے لیے 24 اگست اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے لیے 7 ستمبر مقرر کی ہے۔
محمد علی نے بتایا کہ تینوں نجکاری کے عمل بیک وقت چلائے جائیں گے، جبکہ بولی کا عمل بالترتیب اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 میں منعقد ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اس سے قبل ٹرانزیکشن اسٹرکچر میں ضروری اصلاحات مکمل کر لی جائیں گی۔
سرمایہ کاروں کے مطالبات اور حکومتی مؤقف
وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ اگرچہ یکساں صارف ٹیرف فی الحال برقرار رہے گا، تاہم نجکاری، بہتر کارکردگی اور اضافی پیداواری صلاحیت کے مؤثر استعمال سے اوسط یکساں ٹیرف میں کمی آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کافی مضبوط ہے، تاہم وہ 18 فیصد ڈالر کی بنیاد پر منافع، یکساں صارف ٹیرف کے خاتمے، نئے مالکان کو اپنی بجلی پیدا کرنے کی اجازت، نجی شعبے کو بجلی خریدنے اور فروخت کرنے کی مکمل آزادی، حکومت کے شعبے سے انخلا اور آئندہ 8 سے 10 برس کے ٹیرف اور سرمایہ کاری منصوبوں کی واضح پالیسی چاہتے ہیں۔
محمد علی نے واضح کیاکہ حکومت کسی صورت ڈالر کی بنیاد پر منافع کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق سرمایہ کاروں کو روپے کی بنیاد پر 14 سے 15 فیصد منافع دیا جائے گا، جبکہ کلیدی کارکردگی اشاریوں کی بنیاد پر مجموعی منافع 18 سے 20 فیصد تک پہنچ سکے گا، جس میں بہتر کارکردگی سے حاصل ہونے والے فوائد بھی شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ ٹیرف اور کاروباری ماڈل سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش نہیں، اس لیے اس میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق صوابدیدی اختیارات کے بجائے ریگولیٹر کی نگرانی اور مانیٹرنگ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
سکھر اور حیدرآباد ڈسکوز کی نجکاری بھی آئندہ سال
محمد علی نے بتایا کہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی نجکاری کے ساتھ ساتھ سکھر اور حیدرآباد الیکٹرک کمپنیوں کی تنظیمِ نو اور بہتری کا عمل بھی جاری رہے گا تاکہ آئندہ سال اگست یا ستمبر تک ان کی نجکاری بھی مکمل کی جا سکے۔
نجکاری کمیشن بورڈ کے فیصلے
محمد علی کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے بورڈ نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی تنظیمِ نو کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی۔ مالیاتی مشیر کی تیار کردہ اس منصوبے کو اب منظوری کے لیے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو بھجوایا جائے گا۔
بورڈ نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کے مالیاتی مشیر کے انتخاب کے لیے کے پی ایم جی کی سربراہی میں قائم کنسورشیم، جس میں برج فیکٹر اور دیگر شراکت دار شامل ہیں، کو سب سے زیادہ موزوں بولی دہندہ قرار دیتے ہوئے منظوری بھی دے دی۔
اس سلسلے میں کامیاب کنسورشیم کے ساتھ مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔
اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ کا منصوبہ
بورڈ نے ایک اور اہم ایجنڈا آئٹم کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق مجوزہ ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز معاہدے کا بھی جائزہ لیا۔
مزید پڑھیں: نجکاری کمیشن کا بڑا فیصلہ، بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت کے لیے اظہار دلچسپی طلب
بیان کے مطابق بعض شرائط میں تبدیلیوں کے ساتھ بورڈ نے اس پیش رفت کو سراہا اور معاہدے کی چند شقوں پر مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی۔
مجوزہ منصوبے کے تحت شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے ایک اہل نجی شعبے کے آپریٹر کو طویل المدتی کنسیشن فریم ورک کے تحت ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا، مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا اور ہوائی اڈے کی خدمات کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔














