نجکاری کمیشن نے ملک کی 3 بڑی اور منافع بخش بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی فروخت کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اظہار دلچسپی طلب کر لیے ہیں۔
نجکاری کمیشن کے مطابق ان کمپنیوں کی جزوی یا مکمل فروخت کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مقرر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیرخزانہ کا جینکو، ڈسکوز اور ایئر پورٹس کی نجکاری کا اعلان
فروخت کے لیے پیش کی جانے والی کمپنیوں میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) شامل ہیں۔
تین بڑی منافع بخش ڈسکوز کی نجکاری
یہ تینوں کمپنیاں ان 11 بجلی تقسیم کار اداروں میں شامل ہیں جو 1998 میں واپڈا سے الگ کیے گئے تھے، اور انہیں سب سے زیادہ قابلِ عمل اور منافع بخش ڈسکوز تصور کیا جاتا ہے۔
نجکاری کا مقصد نجی شعبے کے انتظامی طریقہ کار کے ذریعے خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ 5 سال میں مکمل ہونا تھا، تاہم گزشتہ قریباً 3 دہائیوں میں اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
سرمایہ کاروں کو ہر کمپنی میں 51 فیصد سے 100 فیصد تک شیئرز اور انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
حکومت کا معاشی اصلاحاتی ایجنڈا
نجکاری کمیشن کے مطابق یہ اقدام حکومت کے وسیع معاشی اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، خدمات کی فراہمی مضبوط کرنا، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور توانائی کے شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
فیسکو، گیپکو اور آئیسکو مجموعی طور پر پنجاب، اسلام آباد ریجن اور آزاد جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔
یہ کمپنیاں اہم صنعتی، تجارتی اور شہری مراکز میں بجلی کے وسیع ترسیلی نیٹ ورکس چلاتی ہیں اور پاکستان کے توانائی شعبے میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔
سرمایہ کار دوست اور شفاف عمل
نجکاری کمیشن نے کہا ہے کہ یہ عمل بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست انداز میں مکمل کیا جائے گا۔
دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کار انفرادی طور پر یا کنسورشیم کی صورت میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم انہیں درخواست برائے اسٹیٹمنٹ آف کوالیفیکیشن میں درج شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ای او آئی نوٹس کے مطابق ہر ڈسکو کے لیے الگ درخواست جمع کرانا ہوگی۔ فیسکو کے لیے 7 جولائی 2026، گیپکو کے لیے 6 اگست جبکہ آئیسکو کے لیے 7 ستمبر 2026 آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے آن لائن بریفنگ
نجکاری کمیشن اور مالیاتی مشیر کی جانب سے سرمایہ کاروں کے لیے آن لائن بریفنگ بھی دی جائے گی، جس میں سرمایہ کاری کے مواقع، ٹرانزیکشن اسٹرکچر اور طریقہ کار سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔
کمیشن نے کہاکہ ممکنہ سرمایہ کاروں اور پاور سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر موجودہ ٹیرف اسٹرکچر، ملٹی ایئر ٹیرف، کاروباری ماڈل اور مسابقتی سپلائرز کے فریم ورک کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
آئی ایم ایف کی شرائط اور توانائی اصلاحات
نجکاری کمیشن کے مطابق یہ اقدامات آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت کیے جا رہے ہیں، اور حکومت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو توانائی شعبے کی جدید کاری، غیر مؤثر نظام کے خاتمے، نجی شعبے کی شمولیت اور صارفین کے لیے بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے اہم سمجھتی ہے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی سے رابطہ نہیں ہوا، اگلے سال تک 3 ڈسکوز کی نجکاری ہوجائے گی، وزیر توانائی
کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مالیاتی استحکام، توانائی اصلاحات اور طویل المدتی معاشی بہتری میں مثبت کردار ادا کرےگا۔
نجکاری کمیشن نے اس عزم کا اعادہ بھی کیاکہ پاکستان پالیسی کے تسلسل، ریگولیٹری شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔














