گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں خواتین، بچیوں اور بے زبان جانوروں کے ساتھ ہونے والے بدترین واقعات نے ایک وبائی مرض کی صورت اختیار کر لی ہے۔
دنیا میں وقتاً فوقتاً وبائیں آتی ہیں، شہر کے شہر اجاڑ دیتی ہیں، اپنے پیچھے لاشوں کے انبار چھوڑ جاتی ہیں، اور پھر تاریخ کے صفحات میں دفن ہو جاتی ہیں۔ مگر کچھ وبائیں ایسی ہوتی ہیں جو کبھی رخصت نہیں ہوتیں۔ وہ نسل در نسل رگوں میں دوڑتی رہتی ہیں، رسم و رواج کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر معمولاتِ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ہمارا معاشرہ بھی ایک ایسی ہی وبا کی گرفت میں ہے۔ اسے آپ ’انا کا طاعون‘، ’غیرت کا بخار‘ ، ’مردانگی کا وائرس‘ یا ’تشدد کا متعدی‘ مرض کہہ سکتے ہیں۔ نام کوئی بھی ہو، اس کی علامات ایک جیسی ہیں، کمزور پر طاقت آزمائی، اختلاف سے خوف، انسان کو انسان نہ سمجھنا اور جانوروں سے نفرت کرنا۔
یہ ایسی وبا ہے جو صدیوں سے ہمارے سماج میں سرایت کیے ہوئے ہے جس کا شکار سب سے زیادہ مرد حضرات ہیں۔ یہ وبا کبھی عورت کے جسم پر پنجہ آزمائی کرتی ہے تو کبھی بچوں کی معصومیت کو روندتی ہے ـ کبھی کسی بے زبان جانور کی آنکھ نکال دینا دشمن سے جیتنے کے مترادف ہوتا ہے تو کبھی ٹانگ کاٹ کر سفاکی کا جشن منایا جاتا ہے۔
خطرے کی بات تو یہ ہے کہ اس وبا کے نہ تو مریض خود کو بیمار سمجھتے ہیں اور نہ ہی معاشرہ اسے مرض گردانتا ہے، بلکہ اسے غیرت، روایت، مردانگی، اختیار اور سماجی نظام کے خوبصورت نام دے کر ہاتھ جھاڑ دیے جاتے ہیں اور اگر اس پر بھی دل نہیں بھرتا تو ظالم کی گھناؤنی حرکات کی عجیب و غریب توجیہات پیش کردی جاتی ہیں۔ مظلوم کو شک و شبہ کے ترازو میں تولا جاتا ہے اور پھر شروع ہوتی ہے کردار کشی۔ یوں ظلم کا کاروبار ایک قابلِ قبول عادت بن جاتا ہے۔
شاید اسی لیے یہ وبا اب تک زندہ ہے۔ کیونکہ یہ جسموں سے زیادہ ذہنوں میں بس چکی ہے، اور ذہنوں کی بیماریاں اکثر دیرپا ہوتی ہیں۔ چاہے وہ انا ہو یا غیرت، چاہے مردانگی کا زعم ہو یا تشدد کی عادت۔
ہماری ’انا‘ کی بات کی جائے تو وہ صدیوں سے بھوکی ہے۔ اسے صبح و شام، اٹھتے بیٹھتے، ہر لمحہ خوراک درکار ہوتی ہے۔ تعریف کی خوراک، اطاعت کی خوراک، برتری کے احساس کی خوراک۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ انا اپنے مزاج میں بڑی جمہوری بھی ہے۔ یہ کسی قسم کا امتیاز نہیں برتتی۔ عورت ہو یا جانور، بیوی ہو یا بکری، بیٹی ہو یا گلی کی کتیا یہ سب کو اپنی طاقت آزمانے کے لیے یکساں طور پر موزوں سمجھتی ہے۔ اس ’انا‘ کی نظر میں عورت اور جانور کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں۔ جانور کو مارنے والا بہادر کہلاتا ہے، ماحول کو محفوظ بنانے اور نظم و ضبط قائم رکھنے کے دعوے کرتا ہے۔ عورت پر ہاتھ اٹھانے والا اسے ’گھریلو معاملہ‘ قرار دے کر تمام ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ پھر باری آتی ہے غیرت کی، جو اس ’انا‘ کا سب سے کارآمد ہتھیار ہے۔ غیرت کی سب سے بڑی ’خوبی‘ یہ ہے کہ یہ بلاوجہ بھی جاگ سکتی ہے۔
بیٹی نے پسند کی شادی کر لی؟ غیرت جاگ اٹھی۔
بیوی نے حکم ماننے سے انکار کر دیا؟ غیرت جاگ اٹھی۔
دوسرے گاؤں کی اونٹنی کھیت میں گھس گئی؟ غیرت جاگ اٹھی۔
بات بات پر غیرت کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔ چونکہ یہ غیرت حیرت انگیز حد تک لچکدار ہے، سو ہر نئی صورتِ حال میں اپنے لیے جواز پیدا کر لیتی ہےَ
جب انا، غیرت کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے تو اس کے بعد تشدد کا دروازہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ پھر نہ رشتے دیکھے جاتے ہیں، نہ کمزور کی بے بسی۔ بس طاقت کا مظاہرہ باقی رہ جاتا ہے۔ ظلم ڈھایا جاتا ہے، پھر اسی ظلم کو جائز ثابت کرنے کے لیے کہانی یوں گھڑی جاتی ہے کہ قصور ہمیشہ کمزور یا بے بس کا ہی نظر آئے۔
جب مرد عورت پر تیزاب پھینکتا ہے، اغوا کرتا ہے، گولی مارتا ہے، ذہنی و جسمانی تشدد کرتا ہے یا ریپ جیسا گھناؤنا عمل کرتا ہے تو کیا وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے؟ قطعی نہیں!!! ۔۔۔ وہ دراصل اپنے اندر چھپے ایک خوف کا اظہار کرتا ہے، ایک ایسا خوف جو بہت پرانا، بہت گہرا ہے کہ اسے چھپانے کے لیے ہر روز کسی کمزور کی ضرورت پڑتی ہے۔ کسی ایسے وجود کی جو جواب نہ دے سکے، مزاحمت نہ کر سکے، یا جس کی چیخ کو معاشرہ سننے سے انکار کر دے۔
معاشرے میں پھیلی یہ انا، غیرت، مردانگی ایک ایسے کمزور درخت کی مانند ہے جو ہر آندھی میں اپنی کمزور جڑوں کی بابت بے چین ہو جاتا ہے۔
جو معاشرہ اپنی طاقت کا پیمانہ کمزوروں پر جبر کو بناتا ہے، وہ دراصل معاشرہ نہیں ہوتا وہ ایک پنجرہ ہوتا ہے۔ ایسا پنجرہ جس میں طاقتور ہونے کا مطلب صرف کمزور پر حاوی ہونا رہ جاتا ہے۔
جب تک جانور کی پکار اور عورت کی چیخ اَن سنی رہے گی، ہم اسی پنجرے میں قید رہیں گے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جانور نہیں جانتے کہ پنجرہ کھل بھی سکتا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













