لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، 32 افراد ہلاک، امریکا ایران مذاکرات کو سنگین خطرہ لاحق

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور امریکا ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود حملوں کے تسلسل نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکا مذاکرات کے تکنیکی دور میں شریک ہوں گے

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں جاری رہے، جہاں ایک ہی دن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رپورٹوں کے مطابق بعض حملے رہائشی علاقوں پر کیے گئے جن میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد بھی جان کی بازی ہار گئے۔ لبنانی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا نیا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں متوقع ہے، جس میں پاکستان اور قطر بطور ثالث کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تسلسل میں کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا ہے۔

تاہم لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں نے ان مذاکراتی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا مکمل احترام خطے میں کسی بھی سفارتی پیشرفت کے لیے بنیادی شرط ہے، اور موجودہ صورتحال مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا اہم مرحلہ، جے ڈی وینس سمیت امریکی وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا

لبنانی فوج نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کا تسلسل امن بحالی کی کوششوں میں رکاوٹ ہے، جبکہ مقامی آبادی شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں رات بھر 100 سے زائد فضائی حملے کیے گئے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق لبنان میں جاری کشیدگی امریکا ایران مذاکرات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ مجوزہ مفاہمتی فریم ورک میں لبنان میں جنگ بندی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زمینی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو مذاکراتی عمل متاثر یا معطل بھی ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی توانائی اور سفارتی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششوں کا امتحان مزید سخت ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا