ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار ہونے والا مذاکراتی عمل دوبارہ بحال ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ نے تصدیق کر دی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہوں گے۔ مذاکرات میں شرکت کے لیے وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بھی سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے، جہاں وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا تھا جب طے شدہ شیڈول کے باوجود گزشتہ دور میں ملاقات نہ ہو سکی۔ تاہم اب پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں اور سوئٹزرلینڈ کی میزبانی میں ایک بار پھر رابطوں کی بحالی کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ مذاکرات فریقین کے درمیان موجود اختلافات کو کم کرنے اور حالیہ مفاہمتی فریم ورک کو آگے بڑھانے کی کوشش ہیں۔
Iranian negotiators have arrived in Zurich for talks with the US as their nascent agreement threatens to fall apart over Israeli attacks on Lebanon.
Iran's top negotiator Mohammad Bagher Ghalibaf and Foreign Minister Abbas Araqchi lead the delegation. pic.twitter.com/xPS1di2fMo
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 20, 2026
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے تناظر میں ایران امریکا مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق مذاکرات کی بحالی اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق مکمل سفارتی تعطل کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے راستے کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔
سابق سفیر مسعود خان کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں مذاکراتی عمل کے تعطل کی ایک بڑی وجہ خطے میں اچانک پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال تھی، جس نے سفارتی ماحول کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ دونوں سربراہان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر ڈیجیٹل دستخط کیے جا چکے تھے، جو مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار تھا، لیکن زمینی حالات نے پیشرفت کو متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا، ایران امن مذاکرات مختصر تعطل کے بعد بحال، سوئٹزر لینڈ نے بھی تصدیق کردی
مسعود خان کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں فریقین کے لیے مذاکراتی میز پر آنا سیاسی اور سفارتی طور پر مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ترجیحات فوری طور پر سیکیورٹی اور علاقائی صورتحال کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے تیار تھے، تاہم ایرانی فریق کی عدم شرکت کے فیصلے کے بعد یہ عمل متاثر ہوا۔ ان کے مطابق کسی بھی اہم سفارتی عمل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی شرکت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
تاہم سابق سفیر کے مطابق مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا بلکہ صرف عارضی تعطل کا شکار ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان موجود فریم ورک برقرار ہے جبکہ مذاکرات کے لیے طے شدہ ٹائم لائن بھی موجود ہے، اسی لیے دوبارہ رابطوں اور بات چیت کے امکانات برقرار ہیں۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کے مطابق گزشتہ مذاکراتی دور کے نہ ہونے کی بنیادی وجہ بعض انتظامی اور سفارتی امور پر مکمل ہم آہنگی کا فقدان تھا۔ ان کے مطابق اگرچہ عبوری مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے تھے، لیکن مذاکرات کے عملی آغاز کے طریقہ کار پر اختلافات موجود رہے۔
فیضان ریاض کا کہنا تھا کہ امریکی مؤقف کے مطابق مذاکرات میں تاخیر پیچیدہ انتظامی معاملات کے باعث ہوئی، جبکہ ایرانی مؤقف یہ تھا کہ امریکا کو عبوری معاہدے کے تحت بعض ابتدائی اقدامات پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ علاقائی کشیدگی مذاکراتی ماحول کو متاثر کر رہی ہے۔
ان کے مطابق مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے امکانات موجود ہیں اور برگن اسٹاک میں پسِ پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔ پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک فریقین کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
Latest on #MiddleEast tensions:
– Vance heads to Switzerland for talks with #Iran
– Iran's negotiating delegation arrives in Switzerland — media
– Trump: #US could impose #Hormuz tolls if final agreement not reached
– Egypt, Saudi Arabia, Türkiye, U.S. officials discuss… pic.twitter.com/tchLmr01nS— China Xinhua News (@XHNews) June 21, 2026
فیضان ریاض نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہوں گے۔ امریکا کو مثبت اقدامات کے ذریعے خیرسگالی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جبکہ ایران کو بھی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے پیشرفت دکھانا ہوگی۔ ان کے مطابق لبنان میں کشیدگی میں کمی بھی مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے اہم ہوگی۔
سابق سفارت کار آصف درانی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا بلکہ موجودہ علاقائی صورتحال نے اسے عارضی طور پر روک دیا تھا۔ ان کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں اس مفاہمتی فریم ورک کے خلاف ہیں جس کے تحت اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے ماحول میں مذاکرات آگے بڑھنے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران تکنیکی مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، دفتر خارجہ
آصف درانی کے مطابق ایران سمجھتا ہے کہ امریکا اسرائیل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے واشنگٹن کو علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا خطے میں تناؤ کم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ایران امریکا مذاکرات میں اہم پیشرفت ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار اعتماد سازی، علاقائی حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی ترجیحات پر ہوگا۔














