ملک بھر میں شدید تنقید اور پارلیمانی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے شدید تحفظات کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بل کو مزید غور و خوض اور ترامیم کے لیے دوبارہ آئی ٹی کمیٹی کے سپرد کردیا ہے۔ اس وقت یہ بل قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکا اور اس پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 ان دنوں پارلیمان، قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: 5جی نیٹ ورک کو کیسے پورے ملک میں توسیع دی جائےگی؟ وزارت آئی ٹی نے بتا دیا
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بل ملک میں فائبر آپٹک نیٹ ورک، فائیو جی سروسز اور جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض شقیں شہریوں کے آئینی اور جائیدادی حقوق کو متاثر کر سکتی ہیں۔
بل کے مسودے کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب، فائبر آپٹک بچھانے اور جدید مواصلاتی سہولیات کے قیام کے لیے وسیع اختیارات دیے جانے کی تجویز ہے۔
اس میں رائٹ آف وے (Right of Way) کے طریقہ کار کو دوبارہ واضح کرتے ہوئے یہ نظام متعارف کرایا گیا ہے کہ لائسنس یافتہ ٹیلی کام کمپنیاں سرکاری اور نجی املاک تک رسائی کے لیے باضابطہ درخواست دیں گی، اور اگر 15 دن میں جواب نہ آئے تو یاد دہانی کے بعد 30 دن میں معاملہ آگے بڑھایا جا سکے گا۔
بل کے مطابق اگر کوئی فرد، ادارہ، دکاندار، زمیندار یا جائیداد کا مالک ٹیلی کام کمپنیوں کو انفراسٹرکچر کی تنصیب میں رکاوٹ ڈالے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے اور اس پر 5 کروڑ تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
وزارت آئی ٹی کی وضاحت کے مطابق اس بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی ٹیلی کام آپریٹر کو مالک کی اجازت یا قانونی عمل کے بغیر نجی زمین میں داخل ہونے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا، اور نہ ہی یہ بل نجی زمین کے جبری حصول کی اجازت دیتا ہے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب تک تنازع زیر غور ہو، اس دوران کسی بھی کمپنی کو زبردستی زمین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مجوزہ قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر کوئی فرد، ادارہ، دکاندار، زمیندار یا جائیداد کا مالک ٹیلی کام کمپنیوں کو انفراسٹرکچر کی تنصیب میں رکاوٹ ڈالے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور اس پر 5 کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
تاہم وزارت کے مطابق یہ جرمانے بنیادی طور پر ان صورتوں میں لاگو ہوں گے جہاں فریقین پہلے کسی معاہدے کا حصہ بن چکے ہوں اور بعد میں اس کی خلاف ورزی کی جائے۔
بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ رائٹ آف وے کے تحت ’پبلک پراپرٹی‘ پر کوئی فیس یا کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا، جبکہ نجی املاک میں رسائی کے لیے فریقین کے درمیان باہمی رضامندی اور معاوضے کا معاہدہ کیا جا سکے گا۔
اگر اتفاق نہ ہو تو معاملہ حکومتی اتھارٹی کے پاس فیصلے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اجتماعی ملکیت والی املاک کے حوالے سے یہ شرط بھی شامل ہے کہ بعض صورتوں میں عدم جواب کو اجازت تصور کیا جا سکتا ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو وضاحت طلب قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی میں بل پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے کے لیے فائبرائزیشن اور فائیو جی انفراسٹرکچر کی توسیع ضروری ہے۔
ان کے مطابق ملک میں رائٹ آف وے کے بکھرے ہوئے نظام، مختلف فیسوں اور تاخیر کے باعث ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی سست ہوئی ہے، جسے بہتر کرنے کے لیے یہ قانون سازی ضروری ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ خان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 پر سب سے زیادہ تشویش نجی املاک کے حقوق کے حوالے سے ظاہر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو اس کی جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے کسی بھی شخص کی زمین یا عمارت کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے یا اس میں مداخلت کرنے کا تصور آئینی طور پر حساس ہے۔
انہوں نے بل کی ان شقوں پر سوال اٹھایا جن میں رائٹ آف وے کے تحت حکومتی اتھارٹی کو تنازع کی صورت میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق اس سے زبردستی رسائی کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی شق کو بھی سخت قرار دیا اور کہاکہ اس طرح کے جرمانوں کے لیے واضح، متوازن اور محدود معیار ہونا ضروری ہے۔ مجموعی طور پر ان کا مؤقف تھا کہ ڈیجیٹل ترقی اہم ہے لیکن اسے شہریوں کے بنیادی حقوق کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر نوید قمر نے بل پر گفتگو کے دوران زیادہ توجہ اختیارات کی تقسیم اور انتظامی ڈھانچے پر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ رائٹ آف وے اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے معاملات میں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے کردار کو واضح طور پر متعین کیا جانا چاہیے تاکہ تمام اختیارات وفاق کے پاس جمع نہ ہوں۔
انہوں نے ’appropriate government‘ کے وسیع اختیارات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہاکہ اس سے طاقت کے غیر متوازن استعمال کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
نوید قمر نے جرمانوں اور نفاذ کے نظام کو بھی مزید شفاف اور واضح بنانے پر زور دیا تاکہ کسی بھی قسم کی من مانی یا غلط استعمال کا امکان کم ہو سکے۔
ان کے مطابق پاکستان میں فائبر آپٹک اور 5 جی انفراسٹرکچر کی توسیع ضروری ہے، لیکن اس کے لیے ایسا قانونی فریم ورک ہونا چاہیے جو آئینی توازن اور شفافیت کو برقرار رکھے۔
واضح رہے کہ نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شزا فاطمہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ متنازع ٹیلی کام بل میں استعمال الفاظ میں مسئلہ ضرور ہے، لیکن بل غلط نہیں ہے۔
دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہے کہ جب یہ بل کابینہ اور کمیٹیوں سے گزرنے کے بعد اسمبلی میں آیا، اور ایک میٹنگ میں پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے اس بل کے مندرجات ایک ایک کر کے پڑھ کر سنائے، اس وقت کسی کو اعتراض نہیں تھا، تو اب اس بات کو ایشو بنایا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے دیا جاتا ہے، تاہم وہاں معاوضے، رسائی کی حدود اور عدالتی نگرانی کے واضح نظام موجود ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی اصل چیلنج یہی ہے کہ ڈیجیٹل ترقی اور نجی املاک کے تحفظ کے درمیان ایک واضح اور متوازن فریم ورک قائم کیا جائے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا پہلا 5جی ایئرپورٹ، اسلام آباد میں جدید سہولت متعارف
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں اس بل کی حتمی شکل اس بات کا تعین کرے گی کہ پاکستان کس حد تک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کو ترجیح دیتا ہے اور ساتھ ہی شہریوں کے آئینی و جائیدادی حقوق کے تحفظ کو کیسے یقینی بناتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 محض ایک تکنیکی یا انتظامی قانون نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ بن چکا ہے جو ترقی، آئینی حقوق اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن کی بحث کو نئی جہت دے رہا ہے۔













