امریکی انٹیلیجنس ادارے میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں، قومی سلامتی پر سوال اٹھ گئے

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی انٹیلیجنس کے اعلیٰ ترین ادارے آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کی تصدیق امریکی میڈیا رپورٹس میں کی گئی ہے۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کے روز اس ادارے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا آغاز کیا، اور اطلاعات ہیں کہ ممکنہ طور پر سینکڑوں ملازمین کو برطرفی کے نوٹس دیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی اصلاحات، امریکی محکمہ صحت سے ہزاروں ملازمین کو برطرف کردیا گیا

یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے گئے قائم مقام ڈائریکٹر بل پلٹ کی نگرانی میں کی جا رہی ہے، جن کی تقرری پر کانگریس میں پہلے ہی تنازع موجود رہا ہے کیونکہ ان کا انٹیلیجنس کے شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ڈیپ اسٹیٹ کی برطرفیاں شروع ہو گئی ہیں”، تاہم ابھی تک برطرف کیے جانے والے افراد کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق بل پلٹ نے گزشتہ ہفتے اپنی نئی ذمہ داریاں ایک دن پہلے ہی سنبھال لیں اور مبینہ طور پر دفتر کے تمام ملازمین کی فہرست طلب کی، جس سے سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ بھی حیران رہ گئیں۔

ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر اور نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی سینٹر ہوں گے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا باراک اوباما پر غداری کا الزام، سابق صدر نے ردعمل میں کیا کہا؟

یہ برطرفیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی انٹیلیجنس کمیٹیوں کے ڈیموکریٹ ارکان نے سخت خدشات ظاہر کیے تھے۔ سینیٹر مارک وارنر اور رکن کانگریس جم ہائمز نے خط میں خبردار کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر کٹوتیاں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ اگرچہ ادارے میں محدود اصلاحات کی گنجائش موجود ہے، لیکن پہلے ہی 2025 میں بڑی کمی کے بعد مزید بڑے پیمانے پر برطرفیاں 9/11 کے بعد قائم کیے گئے اس ادارے کے بنیادی مشن یعنی دہشتگردی کی روک تھام کو متاثر کر سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیل اور امریکی کمپنیوں کے خفیہ گٹھ جوڑ کی حیران کُن تفصیلات سامنے آگئیں

وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سوشل میڈیا بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بل پلٹ کو دفتر کی فوری تنظیم نو اور عملے میں کمی کی ہدایت دی تھی۔

ایک اور ذریعے کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں تقریباً 400 ملازمین کی برطرفی کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سابق انٹیلیجنس حکام اور قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی بڑی کٹوتیاں حکومت کی دہشتگردی کے خطرات کو بروقت شناخت کرنے اور روکنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp