جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پیر 22 جون 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کھیلوں کی دنیا میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ داستان بن جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک داستان 1978 کے ارجنٹائن کی ہے، جہاں ایک ہی سال میں 2 عالمی مقابلے منعقد ہوئے، 2 مختلف کھیلوں کے 2 عالمی چیمپیئن سامنے آئے، اور ان دونوں فتوحات کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جس کا ذکر آج بھی کھیلوں کے مؤرخین دلچسپی سے کرتے ہیں۔

یہ وہ دور تھا جب پاکستان صرف ہاکی کھیلنے والی ایک ٹیم نہیں تھا بلکہ ہاکی کی ایک یونیورسٹی سمجھا جاتا تھا۔ دنیا بھر کے کوچز، کھلاڑی اور ماہرین پاکستانی ہاکی کے انداز، حکمت عملی اور تکنیکی مہارت کا مطالعہ کرتے تھے۔ انہی دنوں ارجنٹائن فٹبال اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خواب کی تعبیر تلاش کر رہا تھا، اور کہا جاتا ہے کہ اس خواب کی تعبیر میں پاکستان ہاکی نے بھی ایک خاموش کردار ادا کیا۔

1978 میں ارجنٹائن نے 2 بڑے عالمی ایونٹس کی میزبانی کی۔ 19 مارچ تا 2 اپریل ہاکی ورلڈ کپ اور یکم تا 25 جون فیفا ورلڈ کپ۔ پاکستان ہاکی ورلڈ کپ 1975 کے فائنلسٹ کے طور پر میدان میں اترا۔ اس وقت پاکستان کی ٹیم میں کپتان اصلاح الدین صدیقی، سمیع اللہ خان، اختر رسول، شہناز شیخ، رانا احسان اللہ اور دیگر بڑے نام موجود تھے۔ پاکستان کی پہچان تیز رفتار حملے، شاندار ونگ پلے اور مخالف ٹیم پر مسلسل دباؤ تھا۔

بیونس آئرس: ہاکی ورلڈ کپ 1978 کے فائنل میچ: پاکستان بمقابلہ ارجنٹائن کا ایک منظر (1978)

فائنل میں پاکستان کا مقابلہ نیدر لینڈز سے ہوا۔ 2 اپریل 1978 کو ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس کے میدان میں کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان نے نیدر لینڈز کو 2-3 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔

فائنل میں پاکستان کی جانب سے اختر رسول، اصلاح الدین صدیقی اور رانا احسان اللہ جبکہ نیدر لینڈز کی جانب سے ٹائس کروئز اور پال لِٹجینس نے گول اسکور کیے۔ یہ صرف ایک فتح نہیں تھی بلکہ اس دور میں پاکستان کی عالمی برتری کا اعلان تھی۔

انہی دنوں ارجنٹائن فٹبال ٹیم کے کوچ سیزر لوئس مینوتی (César Luis Menotti) اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے تیار کر رہے تھے۔ مینوتی جدید اور جارحانہ فٹبال کے حامی تھے اور ہر اُس ذریعہ سے سیکھنا چاہتے تھے جو انہیں کامیابی کے قریب لے جا سکے۔

پاکستان کی ٹیم صرف جیت نہیں رہی تھی بلکہ ایک نیا اندازِ کھیل بھی متعارف کرا رہی تھی۔ 1978 کے ورلڈ کپ میں گرین شرٹس نے 35 گول اسکور کیے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کا ریکارڈ ہے، جبکہ ان کے خلاف صرف 4 گول ہوئے۔ پاکستان نے کوئی میچ نہ ہارا اور نہ ہی برابر کھیلا۔ یہ ایسی برتری تھی جس نے دنیا بھر کے ماہرینِ کھیل کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔

اس کامیابی کا راز پاکستان ٹیم کے کوچ عبدالوحید خان کی تیار کردہ جارحانہ حکمت عملی تھی۔ پاکستان کے فارورڈز اور ہاف بیکس مل کر مسلسل حملے کرتے، دائیں ونگ سے دباؤ بڑھاتے اور پھر اچانک بائیں جانب سے یلغار کر دیتے۔ اس انداز کو بعد میں ’ڈبل اٹیک‘ کے نام سے یاد کیا گیا۔ مخالف ٹیمیں اکثر یہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ اگلا حملہ کس سمت سے آئے گا، اور یہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن گئی تھی۔

بیونس آئرس: ہاکی ورلڈ کپ 1978 کے فائنل میچ: پاکستان بمقابلہ ارجنٹائن کا ایک منظر (1978)

کپتان اصلاح الدین صدیقی اور دیگر کھلاڑیوں کے مطابق ارجنٹائن کے فٹبال کوچ سیزر لوئس مینوتی نے نہ صرف پاکستان کے میچز دیکھے بلکہ ٹیم کوچ و منیجر عبدالوحید خان سے ملاقات کرکے اس حکمت عملی کو سمجھنے کی بھی کوشش کی۔

پاکستان ہاکی کا فلسفہ سادہ مگر مؤثر تھا۔ مخالف کو دفاع کا موقع ہی نہ دو، مسلسل حملہ آور رہو اور میدان کے ہر حصے کو استعمال کرو۔ کہا جاتا ہے کہ مینوتی نے اس سوچ کو فٹبال کی حکمت میں ڈھالنے کی کوشش کی۔

25 جون 1978 کو بیونس آئرس کے تاریخی مونیومنٹل اسٹیڈیم میں فیفا ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا گیا۔ ایک طرف میزبان ارجنٹائن تھی اور دوسری جانب نیدرلینڈز۔90 منٹ کے کھیل کے بعد مقابلہ برابر تھا۔ میچ اضافی وقت میں داخل ہوا اور پھر ماریو کیمپیس اور ڈینیل برتونی کے گولز نے ارجنٹائن کو 1-3 کی تاریخی فتح دلا دی۔ ارجنٹائن نے اپنی تاریخ کا پہلا فیفا ورلڈ کپ جیت لیا۔

فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد مینوتی نے عبدالوحید خان کو پیغام بھیجا اور پاکستان ہاکی کی سوچ اور منصوبہ بندی سے حاصل ہونے والی رہنمائی پر شکریہ ادا کیا۔

دلچسپ اتفاق یہ تھا کہ چند ماہ قبل ہاکی ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی نیدرلینڈز کو شکست ہوئی تھی اور وہاں فاتح پاکستان تھا۔ یوں 1978 میں ارجنٹائن کی سرزمین پر 2 عالمی فائنل کھیلے گئے اور دونوں میں نیدرلینڈز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہاکی ورلڈ کپ فائنل: پاکستان 3، نیدرلینڈز 2 اور فیفا ورلڈ کپ فائنل: ارجنٹائن 3، نیدرلینڈز 1۔

پاکستانی ہاکی کے عظیم کپتان اصلاح الدین صدیقی، جو ورلڈ کپ 1978 کی فاتح ٹیم کے قائد تھے، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ارجنٹائن کے فٹبال کوچ سیزر لوئس مینوتی نے پاکستان ٹیم سے ملاقات کی، عبدالوحید خان سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور پاکستان کے جارحانہ اندازِ کھیل میں گہری دلچسپی لی۔ اصلاح الدین کے مطابق ارجنٹائن کے عالمی چیمپیئن بننے کے بعد مینوتی نے عبدالوحید خان کو شکریہ کا پیغام بھی بھیجا۔

ارجنٹائن فٹبال ٹیم کے کوچ سیزر لوئس مینوتی (César Luis Menotti) اپنی ٹیم اور ورلڈ کپ کے ہمراہ

یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس دور میں پاکستان ہاکی کا اثر اتنا گہرا تھا کہ دنیا کے دیگر کھیل بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ نوجوان نسل شاید آج اس بات کا تصور بھی نہ کر سکے کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب پاکستان ہاکی کی دنیا کا سب سے بڑا نام تھا۔

پاکستان نے 4 ہاکی ورلڈ کپ جیتے (1971، 1978، 1982 اور 1994)،3 اولمپک گولڈ میڈل حاصل کیے، 8 ایشین گیمز ٹائٹل جیتے اور 3 چیمپیئنز ٹرافیاں اپنے نام کیں۔ سمیع اللہ کو ’فلائنگ ہارس‘ کہا جاتا تھا، حسن سردار دنیا کے خطرناک ترین فارورڈز میں شمار ہوتے تھے اور پاکستان کی سبز جرسی عالمی ہاکی میں خوف اور احترام کی علامت تھی۔

اس وقت پاکستان صرف میچ نہیں جیتتا تھا بلکہ کھیل کے رجحانات متعین کرتا تھا۔ پھر زوال کی داستان شروع ہوئی لیکن تاریخ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔

1980 کی دہائی کے اواخر سے پاکستان ہاکی بتدریج زوال کا شکار ہونا شروع ہوئی۔ مصنوعی ٹرف کے دور میں مناسب تیاری نہ ہو سکی، انتظامی بحران بڑھتے گئے، سیاسی مداخلت نے کھیل کو نقصان پہنچایا، گراس روٹ سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش کمزور پڑ گئی اور جدید تقاضوں کے مطابق نظام تشکیل نہ دیا جا سکا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ملک جس نے دنیا کو ہاکی سکھائی تھی، خود عالمی منظرنامے سے پیچھے ہٹنے لگا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کئی مرتبہ اولمپکس اور ہاکی ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلوں کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کر سکا۔ عالمی درجہ بندی میں بھی وہ مقام باقی نہیں رہا جو کبھی پاکستان کی پہچان تھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر ایئر مارشل نور خان اور کوچ عبدالوحید خان (1978)

یہی اس کہانی کا سب سے دردناک پہلو ہے۔1978 میں جس پاکستان کی حکمت عملی سے دنیا کی بڑی فٹبال ٹیمیں سیکھ رہی تھیں، آج وہی پاکستان اپنے قومی کھیل کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ تاہم تاریخ کا سبق یہی ہے کہ عظمت کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، اگر قوم اسے دوبارہ زندہ کرنے کا ارادہ کرلے۔

1978 کا ارجنٹائن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے پاس صرف شاندار ماضی نہیں بلکہ ایک عظیم کھیلوں کی میراث بھی ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس نے ہاکی کو فن بنایا، دنیا کو چیمپیئن دیے اور ایسی روایات قائم کیں جن کے اثرات دوسرے کھیلوں تک محسوس کیے گئے۔

جب بھی 1978 کے وہ دن یاد آتے ہیں، جب پاکستان ہاکی ورلڈ چیمپیئن بنا اور چند ماہ بعد ارجنٹائن نے اپنا پہلا فٹبال ورلڈ کپ جیتا، تو احساس ہوتا ہے کہ کھیل محض میدان تک محدود نہیں ہوتے۔ ایک کھیل کی سوچ دوسرے کھیل کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

شاید اسی لیے 1978 کی یہ داستان آج بھی زندہ ہے؛ ایک ایسی داستان جس میں پاکستان ہاکی اپنے عروج پر کھڑی نظر آتی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ عظیم قومیں صرف کامیابیاں حاصل نہیں کرتیں، بلکہ وہ دوسروں کی کامیابیوں کی راہیں بھی روشن کرتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp