بلوچستان میدان جنگ بن چکا ہے اور صف بندی بہت واضح ہے۔ ایک جانب ریاست پاکستان کی سلامتی ہے، دوسری طرف بھارت، اسرائیل اور ان کی پراکسیز ہیں۔ یہ اگر مگر کا وقت نہیں ہے، ریاست اور سماج کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے یکسو ہونا ہوگا۔ یہ جنگ معمولی جنگ نہیں ہے، یہ پاکستان کے روشن مستقبل پر مسلط کی گئی جنگ ہے۔ پاکستان نے سنورنا ہے یا نہیں سنورنا، فیصلہ اب یہیں ہو گا۔ چارلس ڈکنز والی بات کہ:
It was the best of times; it was the worst of times. It was the season of life; it was the season of darkness. It was the spring of hope; it was the winter of despair.
آپ غور کریں، کچھ عرصے سے بین الاقوامی میڈیا میں بلوچستان کچھ زیادہ ہی اہتمام سے زیر بحث ہے، مزیر غور کریں تو معلوم ہے اسرائیل کی جانب جھکاؤ رکھنے والے میڈیا اؤٹ لیٹ متحرک ہیں۔ خود اسرائیل کے اندر دائیں بازو کے ٹائمز آف اسرائیل سے لے کر یروشلم پوسٹ تک، بلوچستان زیر بحث ہے۔ کہیں یروشلم ٹریبیون میں پاکستان کی قیمتی دھاتوں پر مضامین باندھ کر امریکا کو مشورے دیے جاتے ہیں کہ پاکستان سے چین کو کیسے دور کیا جائے تو کبھی مڈل ایسٹ میڈیا اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جیسے ادارے بلوچستان میں پراکسیز کے ذریعے اسرائیلی اثرورسوخ بڑھانے کے فضائل بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ مڈل ایسٹ میڈیا اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ایک کامل تزویراتی ابلاغی ادارہ ہے جس کا موجودہ سربراہ اسرائیلی خفیہ ادارے کا سابق اہلکار ہے۔
یہ سب کچھ بے سبب نہیں بلکہ اب تو یہ ڈھکا چھپا بھی نہیں رہا۔ آپ اسرائیل کے اخبارات پر سرسری سی نظر ڈالتے ہوں تو آپ کو معلوم ہوگا بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی اب وہاں کا ایک مستقل موضوع ہے اور وہ اسے اسرائیل کے لیے ایک غیر معمولی تزویراتی امکان سمجھتے ہیں۔ تین بڑے اہداف ہیں جن کا ذکر اسرائیلی میڈیا میں تکرار سے ہورہا ہے۔
پہلا ہدف پاکستان ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں مسلح تحریک چلانے والے اسرائیل کے فطری حلیف ہیں اور انہیں استعمال کرنا اسرائیلی مفاد میں ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ لوگ سیکولر ہیں، مذپبی رجحان نہیں رکھتے، اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ نہیں، ان کا ایجنڈا مقامی ہے۔ اس لیے اسرائیل کو اس طرح کے عناصر کے ساتھ مل کر اس خطے میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانا چاہیے۔ باقاعدہ مضامین باندھے جا رہے ہیں کہ ایسا کرکے اسرائیل اپنے تئیں پاکستان کو فلسطینی کاز سے پیچھے ہٹھنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
دوسرا ہدف ایران ہے۔ بلوچستانن میں پراکسیز کے ذریعے اسرائیل کا اثرورسوخ بڑھا کر یہاں سے ایران پر نظر رکھنےاور مسائل پیدا کرنے کا نکتہ اب اسرائیلی اخبارات کے تجزیوں میں جگہ پانے لگا ہے۔
تیسرا ہدف سی پیک ہے۔ یعنی پاکستان اور چین دونوں ہی نشانے پر ہیں۔
بلوچستان بہت اہم ہے۔ آپ نقشے کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کی بنیاد بلوچستان ہے۔ گوادر ہو، کریٹیکل منرلز ہوں، سی پیک ہو، کوئی سا بھی حواالہ اٹھا لیں، بلوچستان اہم ہے۔ بلوچستان پاکستان کی رگِ جاں ہے۔
اس رگ جاں پر اگر حملہ ہوتا ہے اور یہاں اگر شورش برپا کی جاتی ہے تو یہ اگر مگر، چونکہ چنانچہ سے آگے کی بات ہے۔ یہاں کسی گومگو، کسی تذبذب، کسی خلط مبحث میں پڑھنے اور الجھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ جب ریاست پر جنگ مسلط کردی جاتی ہے تو اس وقت جنگ لڑی جاتی ہے، باقی سب چیزیں اس وقت ثانوی ہو جاتی ہیں۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بلوچستان میں صرف دہشتگردی نہیں ہورہی، یہ ’انسرجنسی‘ ہے۔ اس کے ڈھیر سارے روپ ہیں، دہشتگردی اس کا صرف ایک روپ ہے۔ بظاہر سیاست اور ہیومن رائٹس کی آڑ میں بھی اس انسرجنسی کو سہولت کاری ہورہی ہے اور اسے زاد راہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ یعنی انسرجنسی کے ساتھ ساتھ پوسٹ انسر جنسی بھی چل رہی ہے۔ پوسٹ انسرجنسی کا کام سماج کو کنفیوز رکھنا ہے۔ اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے ساتھ انسرجنسی کی فکری سہولت کاری کرکے عوام کو الجھائے رکھنا ہے۔
دیر سے ہی سہی مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ بالآخر پاکستان یہ سمجھ رہا ہے کہ اس کا حل صرف یکسوئی کے ساتھ بروئے کار آنے میں ہے۔ زیرو ٹالرینس۔ بلاشبہ بلوچستان میں فالٹ لائنز بھی ہیں اور گڈ گورننس بہتر کرنے کی گنجائش بھی ہے لیکن یہ دہشتگردی یا انسرجنسی کا جواز نہیں ہے۔ یہ انتظامی کمی بیشی تو ہر جگہ موجود ہوتی ہے، اسے بہتر ہونا چاہیے مگر معاملہ یہ ہے کہ اس کا حل پارلیمانی سیاست سے نکل سکتا ہے بندوق کی نالی سے نہیں۔
پاکستان اس وقت بہت بہتر پوزیشن میں ہے، عسکری اعتبار سے بھی اور سفارتی طور پر بھی۔ پھر یہ کہ پاکستان میں قیمتی معدنیات کے معاملے میں امریکا کو آن بورڈ لیا جا چکا ہے اور ایک اشتراک کار کی سی کیفیت ہے۔ چین کے ساتھ ساتھ امریکا بھی نہیں چاہے گا کہ بلوچستان میں شورش کی سی کیفیت برقرار رہے۔ پاکستان کو پوری یکسوئی کے ساتھ اس معاملے سے نمٹنا چاہیے۔
مکرر عرض ہے کہ یہ اگر مگر کا وقت نہیں ہے، ریاست اور سماج کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے یکسو ہونا ہوگا۔ یہ جنگ، معمولی جنگ نہیں ہے، یہ پاکستان کے روشن مستقبل پر مسلط کی گئی جنگ ہے۔ پاکستان نے سنورنا ہے یا نہیں سنورنا، فیصلہ اب یہیں ہوگا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













