سعودی عرب نے غیر سعودی افراد اور اداروں کے لیے جائیداد کی ملکیت کے نظام کے انتظامی (ایگزیکٹو) ضوابط اور ان جغرافیائی حدود کی منظوری دے دی ہے جہاں غیر سعودی شہریوں کو جائیداد خریدنے اور ملکیت رکھنے کی اجازت ہوگی، یہ فیصلہ منگل کے روز خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہونے والے اہم کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بہتر طرز زندگی کی تلاش، سعودی عرب منتقل ہونے کے رحجان میں اضافہ
نئے نظام کے تحت غیر ملکیوں کی جائیداد خریدنے کی اجازت پورے ملک میں یکساں نہیں ہوگی بلکہ مخصوص جغرافیائی حدود، شرائط اور تناسب کے مطابق ہوگی۔
سعودی جنرل ریئل اسٹیٹ اتھارٹی (آر ای جی اے) ان علاقوں کی تفصیلی دستاویز جاری کرے گی جس میں نقشوں، اجازت یافتہ مقامات، ملکیت کی نوعیت، ملکیت کے تناسب اور دیگر ضوابط کی وضاحت شامل ہوگی۔
دستیاب معلومات کے مطابق ریاض اور جدہ میں غیر سعودیوں کے لیے مخصوص علاقوں میں جائیداد کی خرید و ملکیت کی اجازت دی جائے گی، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے حوالے سے خصوصی ضوابط نافذ ہوں گے اور وہاں ملکیت کے لیے الگ شرائط مقرر کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ماحول دوست سیاحتی منصوبہ ’العُرومہ سیزن‘، 6 ماہ میں 8 لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد
یہ اقدام سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو وسعت دینے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سعودی مارکیٹ کی جانب راغب کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے، تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نظام اس انداز میں نافذ کیا جائے گا کہ سعودی شہریوں کی رہائشی ضروریات اور مقامی جائیداد کی مارکیٹ کا توازن متاثر نہ ہو۔
قانون کے مطابق جغرافیائی حدود، ملکیت کی زیادہ سے زیادہ شرح، قابلِ ملکیت جائیدادوں کی اقسام اور دیگر تفصیلات سرکاری طور پر جاری ہوں گی، جسے کابینہ کی منظوری کے بعد جنرل ریئل اسٹیٹ اتھارٹی شائع کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے نئی ہیلتھ پالیسی جاری، اب سہولیات کیا ہوں گی؟
سعودی عرب میں غیر سعودیوں کی جائیداد کی ملکیت کے نئے نظام کا نفاذ جنوری 2026 میں شروع ہوگا۔ اس نظام کا مقصد سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا اور سعودی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو مزید متحرک بنانا ہے، جبکہ حساس اور مقدس مقامات کے لیے خصوصی ضوابط برقرار رکھے گئے ہیں۔














