ایران سے سستا تیل اور گیس، کیا پاکستان کے توانائی بحران کا حل قریب آگیا؟

جمعرات 25 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اپریل 2024 میں ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے اور بارڈر مارکیٹس کے قیام کی بات کی۔

2 اگست 2025 کو موجودہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے یہی بیان دہرایا کہ پاک ایران تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں گے لیکن گزشتہ کئی برس سے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم 2 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان ہی رہا اور سب سے زیادہ 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم 2.8 ارب ڈالر رہا۔

مزید پڑھیں: ایک سال میں نمایاں تبدیلی آئے گی، پاک ایران گیس منصوبے کے لیے راستے نکل آئیں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف

پاکستان اور ایران کے درمیان ایک بڑا اقتصادی منصوبہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ہے جو اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے زیرالتوا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو فوری طور پر پورا کر سکتا ہے۔

ایران پر بین الاقوامی پابندیاں تجارت کی راہ میں رکاوٹ

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کی بات گزشتہ کئی برسوں سے چل رہی ہے لیکن ایسا اس لیے ممکن نہیں ہوا کیونکہ ایران بین الاقوامی تجارتی پابندیوں کا شکار ملک ہے اور دنیا کے ساتھ اس طرح سے تجارت نہیں کر سکتا جبکہ ایران کی تجارت کا بڑا حصہ چین کے ساتھ ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان دستخط ہونے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ ایران سے اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔ ایسا ہوتا ہے تو اس سے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا فروغ ممکن ہے۔

کسی ملک پر عائد اقتصادی پابندیوں کے دوران اگر تجارت کی جائے تو اُس سے بینک اور کمپنیاں بلیک لسٹ ہو سکتی ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان ایک غیر رسمی تجارت بھی ہوتی ہے جس میں اسمگلنک کے ذریعے اشیا سرحد پار آتی جاتی ہیں۔ اس کے لیے ابراہیم رئیسی اور بعد ازاں مسعود پزشکیان بھی بارڈر مارکیٹس کھولنے کی بات کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے بھی کہا گیا لیکن مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ لیکن ایران سے اقتصادی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد یہ غیر رسمی تجارت باقاعدہ تجارت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ایران سے پابندیاں ہٹائی گئیں تو کیا پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت بڑھے گی؟

ایران تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ملک ہے، لیکن اقتصادی پابندیوں کے باعث پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک ایک خاص حد سے زیادہ ایران کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتے۔ ایران پر سے اگر اقتصادی پابندیاں ہٹا دی جاتی ہیں تو اس کے اثرات یقیناً پاکستان پر ہوں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے۔

تیل و گیس کے ساتھ ساتھ ایران پاکستان کے لیے اس وقت وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے ٹرانزٹ روٹ کا کام بھی کررہا ہے۔ اس سال اپریل میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان نئے تجارتی راستوں کا اضافہ کیا گیا۔

ایران امریکا جنگ نے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے نظام کو اگر دھچکا پہنچے تو دنیا کی معیشت کس طرح سے ڈگمگا سکتی ہے۔ امریکا کے ساتھ تنازعے کے بعد ایران ایک ایسا ملک بن کر ابھرا ہے جس کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے اور وہ دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کیا ہے؟

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ 2775 کلومیٹر طویل ایک پراجیکٹ ہے جس کا ابتدائی خاکہ 1989 میں بنا، اس کے تحت ایران نے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کو پائپ لائن کے ذریعے گیس خریداری کی پیشکش کی۔

اس سلسلے میں پاکستان اور ایران کی حکومتوں کے مابین ابتدائی گفتگو 1995 میں شروع ہوئی۔ مارچ 2013 میں اس گیس پائپ لائن کے پاکستان میں موجود حصے پر کام کا آغاز ہوا جس کا افتتاح اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے کیا تھا۔ پاکستان میں اس گیس پائپ لائن کی لمبائی 785 کلومیٹر ہے جبکہ ایران میں 950 کلومیٹر سے زیادہ ہے جس پر ایران کام مکمل کرچکا ہے۔

منصوبے کے مطابق ایران کے علاقے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے اس پائپ لائن کا آغاز ہوگا جو پاکستان میں بلوچستان کے علاقے خضدار میں 2 حصوں میں منقسم ہو جائے گی، وہاں سے ایک حصہ کراچی جبکہ دوسرا حصہ ملتان اور پھر وہاں سے اس پائپ لائن کو بھارتی دارالحکومت دہلی تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی ہے۔

پاکستان کو ایران کے ساتھ گیس کی قیمت پر پھر سے بات کرنے کی ضرورت ہے، سید توقیر شاہ

سابق سیکریٹری پیٹرولیم سید توقیر شاہ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاک ایران گیس منصوبہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ پاکستان کے اپنے گیس کے ذخائر اس وقت ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کو نہ صرف گیس بلکہ تیل کے لیے بھی پائپ لائن تعمیر کرنی چاہیے۔ پاکستان کی توانائی کی 50 فیصد ضروریات گیس سے پوری ہوتی ہیں۔ پاک ایران گیس منصوبہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

’اس کے لیے آپ کو نواب شاہ سے لے کر ایران کے ساتھ گبد بارڈر تک قریباً 700 سے 800 کلومیٹر پائپ لائن بنانے کی ضرورت ہے۔‘

’پاکستان پابندیوں کی وجہ سے گیس پائپ لائن پر کام نہیں کر سکا‘

سید توقیر شاہ نے کہاکہ یہ گیس ایران کے علاقے سیستان سے نکلتی ہے جہاں ایران کی کوئی انڈسٹری نہیں اور ایران کو یہ گیس فروخت ہی کرنی ہے۔ اقتصادی پابندیوں کے باعث پاکستان اس معاہدے کو مکمل نہیں کر پا رہا کیونکہ پاکستان اگر ایسا کرتا تو بینکس اور کمپنیاں بلیک لسٹ ہو سکتی تھیں۔

مزید پڑھیں: وہ لمحہ جب پاکستان ایران، امریکا جنگ میں اہم ترین فریق کے طور پر ابھرا

انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان مہنگی ایل این جی درآمد کرکے اپنی ضروریات پوری کررہا ہے، ایرانی گیس اس کا اچھا متبادل ہو سکتی ہے لیکن پاکستان نے ابتدائی معاہدے میں قیمت زیادہ طے کی تھی جس پر دوبارہ سے مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp