وہ لمحہ جب پاکستان ایران، امریکا جنگ میں اہم ترین فریق کے طور پر ابھرا

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

18 جون 2026 پاکستان کی تاریخ میں اب ایک بہت بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی جنگ بندی کا معاہدہ کرا دیا ہے۔

اس کامیابی پر دُنیا کے بیشتر ممالک انگشت بدنداں رہ گئے ہیں اور خاص طور پر پڑوسی ملک بھارت کے لیے پاکستان کا یہ کارنامہ ہضم کرنا کافی مُشکل ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ پاکستانی قیادت کے حوالے سے رطب اللسان ہیں اور گزشتہ جون سے لے کر اس جون تک، ہر چند دن کے بعد پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:علامتی تقاریب نہیں، عملی نتائج اہم تھے، پاکستان نے بحران کو پائیدار امن میں بدل دیا، سفارتی ذرائع

بیک وقت امریکا، ایران، چین اور سعودی عرب کا اعتماد حاصل کرنا ایک ایسا سفارتی کارنامہ ہے جس کی نظیر اِس سے پہلے کی تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن پاکستان نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔ اسی کی وجہ سے دُنیا نہ صرف تیسری جنگِ عظیم سے بچ گئی، بلکہ دنیا بھر کی معیشتیں بھی بڑے نقصان سے محفوظ رہیں۔

پاکستان نے دُنیا کے اہم ممالک کا اعتماد کیسے جیتا اور وہ کیسے اس سطح پر پہنچا کہ اتنا بڑا کارنامہ، جسے دنیا ’سفارتی کُو‘ کہہ رہی ہے، کر دکھایا؟

پس منظر اور تعلقات کا آغاز

12 جون 2025 کو جب اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کیا، تو 18 جون کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔

جب صدر ٹرمپ نے اُنہیں وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ اُس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک بیان دیا کہ ’پاکستان، ایران کو بہت بہتر طریقے سے جانتا ہے، بہت سے ممالک سے زیادہ اور ہم سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے‘۔

صدر ٹرمپ کے اُس بیان کے ٹھیک ایک سال بعد، 18 جون 2026 کو پاکستان نے امریکا اور ایران کے جنگ بندی معاہدے پر بطور ثالث دستخط کر دیے۔

تو جون 2025 سے لے کر جون 2026 تک پاک، امریکا تعلقات میں کیا ہوا؟ ان تعلقات کی بہتری کی ابتدا دراصل مارچ 2025 میں ہوئی تھی، جس کا آگے چل کر ہم مفصل ذکر کریں گے۔

لیکن صدر ٹرمپ کے پیشرو، صدر جو بائیڈن کے دور میں پاک، امریکا تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ پاکستان کو میزائل پروگرام کے لیے پرزے فراہم کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں لگ رہی تھیں۔ اِس کے بعد مارچ 2025 میں، صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ اس کے پیچھے متعدد ایسے واقعات تھے جنہوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد کو بحال کیا اور پاکستان کو ایک بار پھر بین الاقوامی سفارت کاری کے اہم کھلاڑی کے طور پر منوایا۔

پہلا موڑ، ایبی گیٹ حملے کے ملزم جعفر کی گرفتاری

پاک امریکا تعلقات میں نئی گرم جوشی کا آغاز مارچ 2025 میں ہوا، جب پاکستان نے داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے محمد شریف اللہ عرف جعفر کو گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا۔ جعفر پر اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ حملے میں معاونت کا الزام تھا، جس میں 13 امریکی فوجی اور درجنوں افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔

4 مارچ 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا، کیونکہ کئی برسوں بعد کسی امریکی صدر نے کانگریس کے فلور پر پاکستان کے کردار کو اس انداز میں سراہا تھا۔

واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں اس واقعے کو صرف ایک دہشتگرد کی گرفتاری کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ اسے اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ پاکستان حساس سیکیورٹی معاملات میں امریکا کا قابلِ اعتماد شراکت دار بن سکتا ہے۔

دوسرا موڑ، پاک-بھارت جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا پروفائل

اپریل اور مئی 2025 میں جنوبی ایشیا ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان عسکری کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور دنیا کو خدشہ تھا کہ 2 جوہری طاقتیں براہِ راست تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی کوششوں سے ایران امریکا مذاکرات کامیاب، ڈیجیٹل دستخطوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ مؤخر

ابتدائی مرحلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مؤقف یہ تھا کہ دونوں ممالک اپنے مسائل خود حل کریں۔ واشنگٹن کی ترجیح یہ تھی کہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جائے، لیکن امریکا فوری طور پر براہِ راست مداخلت کے حق میں نہیں تھا۔

تاہم جیسے جیسے صورتحال سنگین ہوتی گئی، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک متحرک ہوئے۔ بالآخر 10 مئی 2025 کو جنگ بندی عمل میں آئی۔

اس 4 روزہ جنگ کے دوران پاکستان نے جس طرح سے بھارت کو دھول چٹائی، اُس سے پاکستان کا پروفائل کئی گُنا بڑھ گیا۔

پاکستان نے فوری طور پر جنگ بندی کا کریڈٹ امریکی صدر کو دیا، جبکہ بھارتی حکومت عوامی دباؤ کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر رہی، جس کی وجہ سے پاکستان امریکا کا قریبی اتحادی بنتا چلا گیا۔

پاکستان عالمی سطح پر ایک زیادہ پراعتماد اور مؤثر ریاست کے طور پر سامنے آیا۔ پاکستانی عسکری اور سفارتی قیادت نے جس انداز میں اس بحران کا سامنا کیا، اس نے کئی عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے تصورات کو تبدیل کر دیا۔

صدر ٹرمپ کی پاکستان میں بڑھتی دلچسپی

پاک، بھارت کشیدگی کے خاتمے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں پاکستان کے حوالے سے مثبت تبدیلی نمایاں ہونے لگی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے پہلی مرتبہ پاکستان کو صرف سیکیورٹی تناظر سے نہیں، بلکہ ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔

واشنگٹن میں یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ پاکستان بیک وقت چین، خلیجی ممالک، ایران اور امریکا کے ساتھ رابطے رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہی وہ خصوصیت تھی جو بعد میں ایران، امریکا تنازع میں پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی طاقت ثابت ہوئی۔ امریکا کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ایک مظہرامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایک حالیہ بیان بھی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ معدنیات کے حصول کے لیے اب ہم پاکستان کے ساتھ معاملات کریں گے۔

غزہ سفارت کاری اور عرب دنیا کے ساتھ اشتراک

اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں غزہ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ پاکستان نے متعدد عرب ممالک کے ساتھ مل کر جنگ بندی، انسانی امداد اور سیاسی حل کے لیے مشترکہ سفارتی اقدامات کی حمایت کی۔

پاکستان کی کوشش تھی کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک ایسا بین الاقوامی فورم تشکیل دیا جائے جو صرف بیانات تک محدود نہ رہے، بلکہ عملی سفارتی پیش رفت کا ذریعہ بن سکے۔ اس عمل میں سعودی عرب، قطر، مصر اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے رابطے مزید مضبوط ہوئے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: اسرائیل بے چین، جے ڈی وینس کی احترام کرنے کی تلقین

امریکا نے بھی اس بات کو نوٹ کیا کہ پاکستان خطے کے مختلف فریقوں کے ساتھ بیک وقت رابطہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ستمبر2025 میں اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے موقع پر، پاکستانی قیادت نے 8 عرب ممالک کے ساتھ مل کر صدر ٹرمپ کو غزہ امن منصوبہ پیش کیا، جو بعد میں ’غزہ پیس بورڈ‘ کی بنیاد بنا۔ گو کہ اسرائیل نے غزہ میں مظالم مکمل طور پر بند نہ کیے، لیکن اُن میں خاطر خواہ کمی ضرور واقع ہوئی۔

معدنیات کا شعبہ اور معاشی تعاون کا نیا باب

2025 کے دوسرے نصف میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، جب معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کی بات شروع ہوئی۔

پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر، خصوصاً تانبے، سونے اور نایاب دھاتوں میں امریکی دلچسپی بڑھنے لگی۔ امریکی سرمایہ کاروں اور حکومتی نمائندوں نے اس شعبے میں شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کیا۔

اس عمل نے دونوں ممالک کے تعلقات کو صرف سیکیورٹی تعاون تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ انہیں معاشی اور تجارتی شراکت داری کی نئی سمت عطا کی۔

ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات

اگر ایک طرف امریکا کے ساتھ اعتماد میں اضافہ ہو رہا تھا، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پہلے ہی کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دراصل واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے کا ایک سیکشن ایرانی اُمور بھی دیکھتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ ایران کے جوہری مسئلے، خلیجی سلامتی اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے متوازن مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچی، تو پاکستان دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا۔

وہ لمحہ جب پاکستان ثالث بنا

7 اور 8 اپریل کی درمیانی شب وہ لمحہ تھا، جس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کو مٹانے کی بات کی تھی۔ لیکن اگلے ہی دن انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے کہنے پر 2 ہفتے کی جنگ بندی کر رہے ہیں۔

اِس کے بعد 21 اپریل کو صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں۔

اُس سے پہلے 15 سے 17 مئی تک فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے تہران میں اہم ملاقاتیں کیں اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کے کئی دورے کیے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف ایرانی صدر اور علاقائی سربراہان کے ساتھ مسلسل رابطوں میں مصروف رہے، اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اپنی سطح پر کوششوں میں مصروف رہے۔

انہوں نے  4 ملکی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا، جس میں صورتحال پر بات چیت کے بعد وہ 31 مارچ کو چین گئے، جس کے بعد چین نے اپنا 5 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان صرف ایک مبصر یا متاثرہ فریق نہیں رہا، بلکہ ایک فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ اسلام آباد نے یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف جنوبی ایشیا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ تنازعات میں بھی تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔

سعودی عرب، ایران اور پاکستان کا متوازن کردار

پاکستان کے لیے سب سے بڑا سفارتی امتحان یہ تھا کہ وہ بیک وقت سعودی عرب اور ایران، دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے اور دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک تعلقات کے باوجود، اسلام آباد نے کوشش کی کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق پاکستان نے اس پورے بحران کے دوران ریاض، تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے۔

مزید پڑھیں: دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے

پاکستان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ اگر خلیج کے ممالک براہِ راست جنگ میں شامل ہو گئے تو پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا اور عالمی معیشت پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

اسی متوازن حکمتِ عملی نے پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دی۔ امریکا پاکستان پر اعتماد کرنے لگا تھا، ایران پاکستان کو اپنے مؤقف کا منصفانہ سامع سمجھتا تھا، جبکہ سعودی عرب پاکستان کی نیت اور علاقائی استحکام کے لیے اس کی کوششوں سے واقف تھا۔

یہی وہ سفارتی سرمایہ تھا جس نے بعد میں ایران، امریکا مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

پاکستان کی نئی سفارتی شناخت

ایران، امریکا کشیدگی میں پاکستان کا کردار دراصل گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ہونے والی سفارتی پیش رفتوں کا منطقی نتیجہ تھا۔

مارچ 2025 میں جعفر کی گرفتاری، مئی 2025 کی پاک، بھارت جنگ کے دوران پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار، غزہ کے مسئلے پر سرگرم سفارت کاری، عرب دنیا کے ساتھ قریبی روابط اور امریکا کے ساتھ معاشی تعاون کے نئے امکانات، یہ تمام عوامل مل کر پاکستان کو اس مقام تک لے آئے جہاں وہ  2 مخالف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے قابل سمجھا جانے لگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی کے ایک اور کیس کا فیصلہ آگیا، محمودالرشید، عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، یاسمین راشد کو 10،10 سال قید کی سزا، شاہ محمود بری

ایران جنگ کے بعد چین کا سفارتی اثر و رسوخ بڑھ گیا، سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ

یلو اسٹون میں خلائی مخلوق کی تلاش، سائنسدانوں کی تحقیق سے مریخ پر زندگی کے شواہد ملنے کی امید

امریکا اور ایران کے ایلچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، سیز فائر کے باوجود لبنانی علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری

پاک فوج میں بغاوت کی بات کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے، کشمیری قیادت کا مطالبہ

ویڈیو

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر

شہباز شریف کا وعدہ پورا، پیٹرول کی قیمت میں 74روپے کمی، امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو کھری کھری سنادیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا، جنگ ختم نہ ہونے پر پیٹرول کی قیمت 10ہزار روپے ہوتی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘