مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے انکشاف کیا ہے کہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات سے قبل ان کے 3 مختلف خواتین کے ساتھ افیئرز رہے تھے، جنہیں بعد میں ایپسٹین نے مبینہ طور پر بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف
امریکی کمیٹی کی جانب سے بااثر شخصیات کے اختیارات کے ناجائز استعمال اور جنسی استحصال کی تحقیقات کے دوران جاری کی جانے والی اس گواہی کے مطاب بل گیٹس نے جن 3 خواتین کے نام لیے ہیں ان میں روسی برِج کھلاڑی میلا انتونووا، نیوکلیئر فزسٹ کریما نگماتولینا، اور میڈیکل انٹرپرینیور ڈاکٹر الیس جیکبز نیسلروڈ شامل ہیں۔
بل گیٹس کا کہنا ہے کہ سال 2013 میں سامنے آنے والی بعض ای میلز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایپسٹین ان کے ان ماضی کے تعلقات کو بنیاد بنا کر بلیک میلنگ کی اسٹریٹیجی تیار کررہا تھا، جس کا مقصد اپنے سائنس ایڈوائزر کے لیے ایک بہترین ایگزٹ پیکج حاصل کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بل گیٹس نے جیفری ایپسٹین سے تعلق کو ’بڑی غلطی‘ قرار دیدیا، فاؤنڈیشن عملے سے معذرت
اس حوالے سے امریکی محکمہ انصاف کی پبلک ڈومین پر موجود دستاویزات اور ای میلز کے تبادلوں سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان خفیہ ملاقاتوں اور روسی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات کو بل گیٹس کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی باقاعدہ کوششیں کی جارہی تھیں۔












