امریکن ایسوسی ایشن فار کینسر ریسرچ میں شائع ہونے والی ایک جدید ترین سائنسی تحقیق کے مطابق مردانہ کمزوری کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا ’ویاگرا‘ کینسر کو جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے سے روکنے کی حیران کن صلاحیت رکھتی ہے۔
وائزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ماہرین کی اس دریافت نے کینسر کے علاج کی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں کہ یہ دوا رسولیوں (ٹیومرز) کو جسم میں سرائیت کرنے سے محدود کر سکتی ہے۔
اسرائیل کے وائزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ڈاکٹر یارڈن آریاو اور پروفیسر آئلٹ ایریز کی زیرِ قیادت کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ ویاگرا کا فعال جزو ’سلڈینا فل‘ کینسر کے خلیات کی کولیسٹرول استعمال کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔
چونکہ کینسر کے خلیات کو اصل رسولی سے الگ ہو کر جسم کے دیگر اعضا میں پھیلنے (میٹاسٹیسز) کے لیے کولیسٹرول کی شدید ضرورت ہوتی ہے، اس لیے کولیسٹرول کی فراہمی رکنے سے ان کے پھیلنے کی صلاحیت ناکارہ ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں کینسر کے مریضوں کی اموات میں ہوشربا اضافہ، اسرائیلی پابندیاں جان لیوا بن گئیں
ماہرین کا تجویز کرنا ہے کہ ویاگرا کو کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات سٹیٹنز کے ساتھ ملا کر دینے سے کینسر کی پیش قدمی کو سست کیا جا سکتا ہے۔
کینسر سے ہونے والی بہت سی اموات میں بیماری کا اصل رسولی سے نکل کر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جانا، یعنی میٹاسٹیسزاہم کردار ادا کرتا ہے۔
محققین نے اس حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے انسانی اور چوہوں کے کینسر کے خلیات، جینیاتی تجربات اور کلالیٹ ہیلتھ سروسز کے 50 لاکھ افراد کے 20 سالہ میڈیکل ڈیٹا کا جامع تجزیہ کیا۔
سائنسدان طویل عرصے سے ایسے حیاتیاتی راستوں کی تلاش میں ہیں جنہیں استعمال کرکے کینسر کے خلیوں کی نقل مکانی اور نئی رسولیوں کی تشکیل کو روکا جاسکے۔
نئی تحقیق میں سامنے آنے والا طریقہ کار اس حوالے سے اس لیے اہم سمجھا جارہا ہے کہ اس نے کینسر کے خلیوں کی جینیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے میٹابولزم اور کولیسٹرول کے استعمال کو بھی بیماری کے پھیلاؤ سے جوڑا ہے۔
تحقیق کی سربراہ پروفیسر ایلیٹ ایریز کے مطابق نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کینسر کی حیاتیات صرف رسولی کے اندر موجود جینیاتی تبدیلیوں سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ مریض کی میٹابولک حالت اور وہ ادویات بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں جو وہ کسی دوسری بیماری کے لیے استعمال کررہا ہو۔
مزید پڑھیں:مسلسل بیٹھنے کے بجائے مختصر وقفوں سے جسمانی سرگرمی، کینسر سے موت کا خطرہ کم کرنے میں مددگار قرار
تحقیق میں ویاگرا کے فعال جزو سِلڈینافل پر توجہ مرکوز کی گئی، جو پی ڈی ای 5 نامی انزائم کو روکتا ہے۔ یہ وہی عمل ہے جس کے نتیجے میں جسم میں سی جی ایم پی نامی سگنلنگ مالیکیول کی سطح بڑھتی ہے اور خون کی نالیوں میں پھیلاؤ پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سِلڈینافل کے علاج میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
تاہم ویزمین انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے ایک مختلف حیاتیاتی راستہ دریافت کیا۔ ان کے مطابق سی جی ایم پی خلیوں کے اندر کولیسٹرول منتقل کرنے والے ایک پروٹین سے منسلک ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں کینسر کے خلیوں کے لیے دستیاب کولیسٹرول کم ہوجاتا ہے۔
کینسر کے وہ خلیے جو اصل رسولی سے الگ ہوکر جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچتے اور نئی رسولیاں بناتے ہیں، اپنی جھلیوں اور دیگر ضروری خلیاتی کاموں کے لیے کولیسٹرول پر انحصار کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کولیسٹرول تک رسائی محدود ہونے سے ان خلیوں کے لیے جسم میں نقل مکانی اور نئی جگہ پر رسولی قائم کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
تاہم سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ ڈیٹا فی الوقت مشاہداتی بنیادوں پر ہے جس سے ایک تعلق تو ثابت ہوتا ہے مگر حتمی سبب و اثر کے لیے مزید انسانی کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا کینسر مزید پھیل گیا، بیماری انتہائی تکلیف دہ ہے، بیٹے کا انکشاف
‘سلڈینا فل’ کو بنیادی طور پر 1990 کی دہائی میں بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں (سینے کے درد) کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم کلینیکل ٹرائلز کے دوران ماہرین نے غیر متوقع طور پر مردانہ کمزوری کے علاج کے لیے اس کے انتہائی مؤثر ہونے کا انکشاف کیا۔
جس کے بعد اسے ’ویاگرا‘ کے برانڈ نام سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ اب دہائیوں بعد اس کا کینسر کی حیاتیات (میٹابولک پروسیس) کے ساتھ تعلق سامنے آنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی بیماری کا علاج محض خلیاتی تغیرات تک محدود نہیں بلکہ مریض کے مجموعی میٹابولک نظام پر منحصر ہوتا ہے۔













