ایلون مسک 2 ہفتے بعد ہی کھرب پتی کا درجہ کیوں کھو بیٹھے؟

جمعرات 25 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک صرف 2 ہفتے بعد ہی ٹریلینئر (کھرب پتی) کے درجے سے محروم ہو گئے ہیں۔ سپیس ایکس اور ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث ان کی مجموعی دولت 1.32 ٹریلین ڈالر سے گھٹ کر 957 ارب ڈالر رہ گئی۔

مزید پڑھیں:اسپیس ایکس کے ہزاروں شیئر ہولڈرز کی دولت میں غیرمعمولی اضافہ، ایلون مسک کھرب پتی بن گئے

رپورٹس کے مطابق سپیس ایکس کے حصص میں ایک ہی روز 16 فیصد کمی سے مسک کی دولت میں قریباً 240 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ تاہم وہ اب بھی دنیا کے سب سے امیر فرد ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسک کی دولت کا بڑا حصہ کمپنیوں کے حصص کی مارکیٹ ویلیو پر مشتمل ہے، اس لیے شیئرز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ان کی مجموعی دولت پر فوری اثر ڈالتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران پر حملوں میں ایلون مسک کے اے آئی ٹول گروک کے استعمال کا امریکی اعتراف

اس کے باوجود سرمایہ کار سپیس ایکس کے طویل المدتی منصوبوں، خصوصاً خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور چاند و مریخ سے متعلق منصوبوں کے باعث کمپنی کی مستقبل کی صلاحیت پر پُرامید ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘