امریکا نے جمعہ کو آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر گزشتہ ہفتے طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران میں میزائل اور ڈرون کی ذخیرہ گاہوں سمیت ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، بعد ازاں امریکی فوج نے ایک دھماکے کی دھندلی سیاہ و سفید ویڈیو بھی جاری کی، جسے غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، ایک امریکی اہلکار کے مطابق کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔
https://t.co/CckXLJSpah pic.twitter.com/NoMQ7cNtN5
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 27, 2026
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک کی بندرگاہ کے قریب ایک گولہ آ کر گرا، جس کے جواب میں ایرانی بحریہ نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم تہران نے یہ نہیں بتایا کہ کن مقامات پر حملہ کیا گیا۔
ادھر خطے میں کشیدگی کے باوجود 4 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی، جہاں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے اسرائیل اور لبنان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
"When I respond, you're going to find out."
President Trump accused Iran of violating the ceasefire on Friday after a ship in the Strait of Hormuz was struck and damaged by Iranian forces this week.
"I don't like the fact they took a shot yesterday — actually, four, we knocked… pic.twitter.com/eHtCYe9B4n
— CBS News (@CBSNews) June 26, 2026
معاہدے کے تحت حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے لبنان سے انخلا کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کا طریقہ واضح نہیں، جبکہ حزب اللہ نے معاہدے پر تعاون سے انکار کر دیا ہے۔
تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا، جے ڈی وینس
ایران نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرے گا اور خلیجی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ واشنگٹن کا ساتھ نہ دیں، یہ بیان عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ ہفتے ہونے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلاجواز حملہ جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھا اور امریکی کارروائی اسی حملے کا ’طاقتور جواب‘ ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے سیاسی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوں گے؟
امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے اپنی معاونت جاری رکھے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور ہم نے اس کا احترام کیا۔ ’اگر انہیں معاہدے کے نفاذ پر اعتراض ہے تو وہ بات چیت کر سکتے ہیں، لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔‘
ایران کا موقف
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سیریک بندرگاہ کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ذریعے کے مطابق اس سے چند گھنٹے قبل آبنائے ہرمز کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کی گئی تھی، جبکہ قریبی کرپان علاقے سے 2 انتباہی میزائل بھی داغے گئے تھے۔
ہفتے کے روز ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے صوبہ ہرمزگان کے مشرقی علاقے کے بندرگاہی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حملے سے سیریک بندرگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی عوام کی اکثریت ایران امریکا امن معاہدے کے حق میں، سروے رپورٹ
ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ جواباً ان کی بحریہ نے خطے میں موجود ’دہشتگرد امریکی فوج‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور خبردار کیا کہ اگر امریکا نے مزید حملے کیے تو اس کا جواب اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
پاسداران انقلاب کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کا کنٹرول ایران کے پاس ہے، تاہم امریکا نے مختلف محاذوں پر اشتعال انگیزی کرتے ہوئے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کا مناسب جواب دیا گیا ہے اور آئندہ بھی دیا جاتا رہے گا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکا نے فوری طور پر ایران کے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا کہ اس نے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات اور جنگ بندی کے اصولوں پر عملدرآمد میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی بالآخر امریکا کے لیے پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟
تازہ کشیدگی سے قبل جمعہ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو گئی تھی، یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً ایک پانچواں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق سعودی آرامکو نے تقریباً 4 ماہ بعد خلیج میں واقع راس تنورہ ٹرمینل سے خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل بھی بحال ہونے سے عالمی غذائی قیمتوں میں اضافے کے خدشات میں کمی آئی ہے۔
US Vice President JD Vance said Iran signed a ceasefire agreement. We have honoured it. If they have disagreements about how the MOU is being applied, they can pick up the phone.
Read more: https://t.co/WMmHqZGNIY #pakistanconnect pic.twitter.com/8mVtz12xbA
— P Connect (@ConnectingPak) June 27, 2026
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے دورے کے اختتام پر خلیجی تعاون کونسل کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ’آزاد، غیر مشروط اور بلا رکاوٹ جہاز رانی‘ پر زور دیا۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا کہ خطے میں امریکا کے اتحادیوں کی سلامتی ایران کے تحمل پر منحصر ہے۔













