پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب، برانچ لیس بینکنگ صارفین کی تعداد 9 کروڑ 58 لاکھ سے تجاوز

ہفتہ 27 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں ڈیجیٹل نیٹ ورک اور آن لائن بینکنگ خدمات استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعلامیے کے مطابق ملک میں ’برانچ لیس بینکنگ‘ موبائل ایپ استعمال کرنے والے فعال صارفین کی تعداد بڑھ کر 9 کروڑ 58 لاکھ کی سطح تک پہنچ گئی ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تیز رفتار مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کا جائزہ

مرکزی بینک نے رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران ادائیگیوں کے نظام سے متعلق ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا، 3 ماہ میں کتنی ٹرانزیکشنز ہوئیں؟

اس رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے رجحان اور استعمال میں نمایاں اور غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب روایتی بینکنگ کے مقابلے میں لوگ موبائل اسکرین پر لین دین کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث بینکنگ موبائل ایپس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ 89 لاکھ، جبکہ انٹرنیٹ بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 1 کروڑ 62 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگیاں اور ’کیو آر کوڈ‘ کا بڑھتا رجحان

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں چھوٹے کاروباروں اور دکانوں پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے بھی اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

ملک بھر میں کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والی دکانوں اور مرچنٹس کی تعداد 25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:فیول سبسڈی اسکیم: سندھ میں ساڑھے 14 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگیاں کردی گئیں، وزیراعلیٰ کو بریفنگ

اس اہم پیش رفت سے پتا چلتا ہے کہ اب نقد رقم (کیش) کے بجائے موبائل اسکیننگ کے ذریعے خریداری کا رجحان عام ہو رہا ہے۔

ٹرانزیکشنز کا نیا ریکارڈ اور اربوں روپے کی آن لائن شاپنگ

اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستانی صارفین نے آن لائن خریداری میں بھی دل کھول کر پیسہ خرچ کیا۔ صارفین نے تقریباً 43 کروڑ 50 لاکھ آن لائن خریداریوں پر مجموعی طور پر 470 ارب روپے خرچ کیے۔

علاوہ ازیں مختلف ڈیجیٹل چینلز (بشمول ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ اور اے ٹی ایم) کے ذریعے ساڑھے 3 ارب سے زیادہ ٹرانزیکشنز کی گئیں، جن کے ذریعے مجموعی طور پر 68 ہزار 300 ارب روپے کی ریکارڈ ادائیگیاں کی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp