وفاقی آئینی عدالت نے نجی پاور پلانٹس پر عائد لیوی کے خلاف سندھ ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 2 رکنی بینچ کی جانب سے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے لیوی کے نفاذ اور اس کے قانونی جواز سے متعلق متعدد اہم سوالات اٹھائے۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ حکومت کی جانب سے لیوی کا نوٹیفکیشن کب جاری کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار لیوی عائد کرنے کی منظوری دیدی
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اوگرا ہر پاور پلانٹ کی بجلی پیدا کرنے کی لاگت کا تعین کرتا ہے اور آیا تمام نجی پاور پلانٹس کا ٹیرف ایک جیسا ہے یا ہر پلانٹ کا الگ الگ ٹیرف مقرر کیا جاتا ہے۔
نجی پاور کمپنیوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہر پاور پلانٹ کا ٹیرف نیپرا الگ سے مقرر کرتا ہے، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ لیوی کا نوٹیفکیشن مارچ میں جاری کیا گیا، اس لیے فروری کے مہینے پر اس کا اطلاق کرتے ہوئے لیوی وصول نہیں کی جا سکتی۔
وکیل نے مزید کہا کہ لیوی کی بنیاد اور اس کے حساب کتاب سے متعلق کوئی دستاویز عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے صنعتی صارفین کے لیے گیس لیوی میں کمی کی اجازت دیدی
اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جس بابو نے ڈرافٹنگ کی ہوگی، اس سے پوچھا جائے۔
انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا سمری، ڈرافٹنگ اور دیگر متعلقہ دستاویزات ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی تھیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ دستاویزات تو عدالت کے سامنے بھی موجود نہیں۔ ’جب ایک چیز سامنے ہی نہیں تو آپ کیا لینے آئے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: عوام کے لیے ریلیف: آئی ایم ایف نے حکومت کو بجلی ٹیرف میں کمی کی اجازت دے دی
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مارچ میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کی بنیاد پر فروری کی لیوی وصول نہیں کی جا سکتی۔
عدالتی استفسار پر کمپنیوں کے وکیل نے بتایا کہ نیپرا کو فریق تو بنایا گیا ہے، تاہم اس کی جانب سے کوئی نمائندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
بعد ازاں عدالت نے نیپرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے نجی پاور پلانٹس پر عائد لیوی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔














