تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

جمعرات 2 جولائی 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ابو الحسین آزاد نوجوان اسکول ٹیچر ہیں۔ تعلیمی پس منظر مدرسے کا ہے۔ مگر اس شعبے کی عام روایت کے مطابق خود کو محض ’نصابی کتب‘ تک محدود نہیں رکھا۔ شاید جانتے تھے کہ نصابی کتب صرف ملازمت دلوانے کا ہی فائدہ رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ درس نظامی تک محدود رہ جانے والے بس امامت و تدریس کی نوکری تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ یوں یہ نوجوان غیر نصابی مطالعے کی اس راہ پر گامزن ہے جو تفکر کی دنیا کی جانب جاتا ہے۔ وہ دنیا جو ’غور و فکر‘ والوں کی جا ہے۔ وہ جا جہاں سے معاشرے کے لیے مثبت اور تعمیری کام ہوتا ہے۔

فکر کی دنیا کی سب بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ رد و قبول کے لیے تنقیدی جائزے کو واحد پیمانہ بناتی ہے۔ وہاں دلیل دینے والے کا نہیں خود دلیل کا قد کاٹھ ناپا جاتا ہے۔ دلیل اس پیمانے پر پوری اترے تو قبول، ورنہ نہیں۔ اب یہ وہ معیار ہے جسے علمی زوال نے موجودہ مذہبی حلقے میں جرم کا درجہ دے دیا ہے۔ چنانچہ اس دنیا کے بڑے 2 طرح کی باتیں بکثرت کرتے ملتے ہیں۔ پہلی یہ کہ ’بزگوں کی کتب‘ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ دوسروں کو پڑھنے سے گمراہی پیدا ہوتی ہے۔ دوسری یہ کہ بزرگوں کی مان کر چلنے میں خیر ہے۔ یہ دونوں ہی باتیں کس قدر غیر منطقی ہیں، اس کا اندازہ ان کے فقط ایک ایک سقم سے لگا لیجیے۔

اگر آپ بزرگوں کی کتب کے علاوہ کچھ نہیں پڑھیں گے تو یہ کیسے جان پائیں گے کہ مخالف فکر کا مقدمہ اور استدلال کیا ہے؟ مثلا لبرل ازم کو ہی لے لیجیے۔ کیا لبرل ازم کا مقابلہ اسے پڑھے اور سمجھے بغیر ہوسکتا ہے؟۔ رہ گئی بات بزرگوں کی مان کر چلنے کی تو بزرگوں کی مان کر چلنے کا دوسرا نام جمود ہے، جمود میں خیر کیسے ہوسکتی ہے ؟ اگر اس میں خیر ہوتی تو کیا امام ابوحنیفہ اپنے شاگردوں کو اس بات پر اکساتے کہ میرے دلائل کو چیلنج کیا کرو؟۔ اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ مجالس منعقد کرواتے جہاں وہ اپنے دلائل دیتے اور شاگرد ان کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے؟۔ صرف یہی نہیں بلکہ شاگرد جوابی موقف اور اس کے دلائل بھی پیش کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ حنفی فقہ میں بہت سے مسائل میں امام ابو حنیفہ اور لا تعداد مسائل میں ان کے دو جلیل القدر شاگردوں امام ابو یوسف اور امام محمد کے موقف پر عمل کیا جاتا ہے۔ اور اس سے امام ابوحنیفہ کی شان میں کوئی کمی رونما ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے شاگردوں سے متعلق کوئی یہ کہتا سنا گیا کہ یہ اپنے بڑوں کی مان کر نہیں چلتے۔

یہ بھی پڑھیں: فری اسپیچ کا لولی پاپ

جہاں تک گمراہی کا تعلق ہے تو وہ ایک نیگیٹو چیز ہے جو نیگیٹو اپروچ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ مذہب کی دنیا میں اس بدتر کوئی نگیٹو چیز ہو نہیں سکتی کہ ذاتی مفاد کے لیے شرعی حکم کو توڑ مروڑ دیا جائے۔ یعنی علم و شعور پر اپنے دو ٹکے کے مفاد کو ترجیح دیدی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سرکاری مولوی اور غیر ملکی فنڈڈ مذہبی اسکالر کی بات کو رتی برابر اہمیت نہیں دیتے۔ جس نے اپنی آزادی سرکار یا ڈونیشن دینے والوں کی پالیسی کے تابع کرلی اس کی رائے کا کیا اعتبار؟ اسی لیے تو امام ابوحنیفہ نے چیف جسٹس بننے سے انکار کیا تھا۔ اور جب بادشاہ نے دیکھا کہ بندہ تو سرکاری ملازمت کی بیڑی سے بچ رہا ہے تو وہی کیا جو بادشاہوں کے ہاں آخری آپشن ہوتی ہے۔ ڈال دیا جیل میں اور اس عظیم فقیہ کو جیل سے نجات تب ملی جب ان کی روح جسم سے جان چھڑا گئی۔

یہ غور وفکر کا ہی نتیجہ ہے کہ ابوالحسین نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا

’پاکستان کے اکثر مشہور پوڈ کاسٹ کرنے والے، جنہیں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل علما کے انٹرویوز کر رہے ہیں۔ پہلے ایک فرقے کا، پھر اس کے متضاد فرقے کا، پھر ان دونوں کا مخالف، پھر ان تینوں سے متصادم، ہر قسم کے علما۔ علم و فکر سے نسبت رکھنے والے، گھڑنتو قصے سنانے والے حتی کہ کالعدم اور فرقہ باز تنظیموں کے لیڈر۔ پھر وہ پوڈ کاسٹ میں 2، 4 متنازع سوالات بھی پوچھتے ہیں جن پر شور و غوغا اٹھتا ہے اور خوب اچھی ریٹنگ مل جاتی ہے۔

ان تمام پوڈ کاسٹروں کو اب کوئی بتا دے کہ الحمد للہ معتدد بار علمائے کرام کے انٹرویوز ہو چکے ہیں سب کے مؤقف سامنے آ چکے ہیں اور تمام ’دینی مسائل‘ حل ہو چکے ہیں۔ اب تھوڑا دنیا داری کی طرف بھی توجہ دیں۔ انسان کی زندگی میں سیاست، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، فلسفہ،تاریخ، مذاہب عالم، زبان، معیشت، تجارت، بجٹ پلاننگ، کیرئر بلڈنگ، بچوں کی تربیت، خاندانی زندگی، صحافت، کالم نگاری، مطالعہ، مزاح، دکان داری، زراعت، باغبانی، فارمنگ، صحت، غذا، کھیل، ورزش، سیاحت، خطاطی، مصوری، شاعری،موسیقی، ڈراما، فن تعمیر، شاپنگ، ڈرائیونگ، کھانا پکانا، ازدواجی زندگی، جنسی صحت، صفائی ستھرائی، حجامت، غسل، لباس اور ان ہی جیسے دیگر سینکڑوں عنوانات بھی ہیں۔ اب تھوڑا تھوڑا ان کے متعلقہ ماہرین کو بھی دعوت دیں تاکہ لوگ حضرت حوا اور حضرت آدم کے آنسوؤں کے ساتھ دیگر مادی اسباب و وسائل سے بھی مسالہ جات اور خوشبوئیں کشید کرنے کا ہنر سیکھ سکیں۔

مزید پڑھیے: تجھے کون بچائے گا کالیا؟

ابوالحسین آزاد کے اس پیس میں پہلی قابل غور چیز تو یہی ہے کہ ایک نوجوان عالم دین نام نہاد پوڈ کاسٹرز کو سماجی مسائل کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ انصاف سے بتایئے یہ نوجوان غیر نصابی مطالعے اور اس کی مدد سے غور و فکر کی راہ نہ اختیار کرتا تو یہ مؤقف اختیار کرتا ؟ نہیں، بلکہ یہ بھی یہ کہتا پایا جاتا کہ لوگ دین سے بالکل کٹ گئے ہیں۔ دنیا داری کی باتیں کر رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو اسکولوں میں ڈال رکھا ہے، حالانکہ ہر مسلمان بچے کو تو تعلیم صرف مدرسے کی حاصل کرنی چاہیے۔ پاکستان کا ہر بچہ مستقبل کا بس حافظ، قاری یا عالم دین ہونا چاہیے تب ہی مسلمان ترقی کریں گے۔ ان ترقی یافتہ مسلمانوں کے مکان کون تعمیر کرے گا؟ صنعت و تجارت کس کے ذمہ ہوگی؟ علاج معالجے، پانی کی فراہمی اور گٹروں کی صفائی کون کرے گا؟ تو یہ سب گمراہ کن سوالات ہیں، ان کے بارے میں سوچنا بھی گناہ ہے۔

لیکن ابوالحسین آزاد کی پوسٹ ایک اہم سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ وہ یہ کہ پوڈ کاسٹرز کی یہ نسل جسے فیڈر چھوڑے ابھی چند ہی سال ہوئے ہیں ایسے لغو اختلافی مسائل کو ترجیح کیوں بنا رہی ہے جو سماج میں تفریق اور شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں؟ وجہ ان کی نالائقی کے سوا کچھ نہیں۔ جب پہلے مطالعہ ہو نہ ہی تجربہ تو واحد آپشن یہی رہ جاتی ہے کہ ان چیزوں کو ہوا دو جن سے اہل خرد صرف اس لیے دامن بچا کر رکھتے ہیں کہ جانتے ہیں ان مسائل کو اچھالنا سماج کے وحدت بننے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

دنیا کے چند محفوظ ترین مقامات میں سے ایک مقام سوال کنندہ کا مقام ہے۔ وہ مقام جہاں نیوز چینل کا سوال کنندہ بھی جرنیل کے متعلق تو سوال اٹھاتا ہے مگر ملک ریاض سے متعلق نہیں۔ وہ مقام جہاں سیاستدان کا کام تو موضوع بن سکتا ہے مگر موبائل فون کمپنیوں کے کرتوت نہیں۔ وہ مقام جہاں فیڈر کلاس پوڈ کاسٹر بھی خود کو اتنا محفوظ سمجھتا ہے کہ اس کرسی سے اٹھ کر جواب دینے والی کرسی پر بیٹھنے کے لیے صرف اس شرط کے ساتھ تیار ہوتا ہے کہ اس سے سوال کرنے والا اسی کا کوئی شریک جرم ہونا چاہیے۔ کیوں؟ اسے ایک مثال سے سمجھیے۔ فرض کیجیے ابوالحسین سوال کنندہ بن کر پوڈ کاسٹر سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی سرگرمیوں کا مقصد کیا ہے؟ اور وہ جواب میں کہتا ہے، میں تو بس لوگوں تک سچ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس پر ابوالحسین ان سے یہ معصوم سی فرمائش کردیں کہ ’سچ‘ کو ڈیفائن کیجیے۔ کیا پوڈ کاسٹر کرسکتا ہے سچ کو ڈیفائن؟ یا وہ کہتا ہے، میں تو حق پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اور ابولحسین اس سے حق کو ڈیفائن کرنے کا مطالبہ کردیں تو کیا وہ حق کو ڈیفائن تک کر سکتا ہے؟ یہ بھی چھوڑیے، فرض کیجیے وہ کہتا ہے کہ میں وطن کی خدمت کر رہا ہوں۔ اور ابولحسین کہہ دیں کہ وطن کو ڈیفائن کیجیے۔ ہم خدائے بزرگ و برتر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ وطن کو بھی ڈیفائن نہیں کرسکتے۔ یعنی چیزوں کی بنیادی تعریف تک نہیں جانتے لیکن دعوی ہے اسی کا چورن بیچنے کا۔

مزید پڑھیں: ’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘

سوال یہ ہے کہ جو جانتا ہی نہیں کہ سچ، حق اور وطن کہتے کسے ہیں، وہ ان چیزوں کو پہنچا کیسے سکتا ہے؟ اردو کے 2 الفاظ لے لیجیے۔ ایک ہے حاجت اور دوسری ہے ضرورت۔ کیا یہ تفریق پرست پوڈکاسٹر ان 2 لفظوں کا معنوی فرق بتا سکتے ہیں؟ ایسے میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ ان جاہلوں کو سوشل میڈیا پر فساد فی الارض کی کھلی چھوٹ حکومت نے کس خوشی میں دے رکھی ہے؟ ہماری تجویز ہے کہ ان نام نہاد پوڈ کاسٹرز کو لائسنس کے تابع کیا جائے۔ اور لائسنس کو ڈرائیونگ کی طرح ہی ٹیسٹ سے مشروط کیا جائے۔ چائنا نے حال ہی میں یہی تو کیا ہے۔ وہاں سوشل میڈیا پر صرف اس موضوع پر چونچ کھولنے کی اجازت ہے جس کی ڈگری بھی حاصل کی ہوئی ہو۔ ہم تھوڑی رحم دلی اختیار کر لیتے ہیں۔ ڈگری نہیں یہ نمونے بس ایک ٹیسٹ پاس کرکے دکھا دیں !

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp