افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) کے کردار پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ’یوناما‘ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں پر تو مبینہ شہری ہلاکتوں کا ذکر کرتا ہے، تاہم افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلی حمایت اور ان کی پذیرائی پر خاموش رہتا ہے، جو غیر جانبداری کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان (یوناما) پر دہشت گردی سے متعلق معاملات میں دوہرے معیار کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جب بھی پاکستان افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے تو ’یوناما‘ طالبان حکومت کے مبینہ شہری ہلاکتوں سے متعلق بیانیے کو دہراتا ہے، لیکن دہشتگردوں کی کھلی حمایت اور ان کی تشہیر پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔
واضح رہے کہ افغان شہری جان اللہ عرف زاہد ایوبی، ولد دولت خان تقی، سکنہ کوچیانو گاؤں، ضلع مہمند درہ، صوبہ ننگرہار، 10 نومبر 2025 کو جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھا۔
یہ بھی پڑھیں:رچرڈ بینیٹ دہشتگردی کو فروغ دینے والے افغان طالبان کا بیانیہ آگے بڑھانے لگے، اقوام متحدہ کی رپورٹس نظر انداز
22 دسمبر 2025 کو اس کی تعزیتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں طالبان حکومت کے سینیئر عہدیداروں نے شرکت کی، جبکہ تقریب میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے شدت پسند کی تصاویر اور پوسٹر بھی نمایاں طور پر آویزاں کیے گئے۔
اس واقعے پر یوناما کی جانب سے مذمت یا ردعمل کیوں سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اگر دہشتگردوں کی کھلی پذیرائی پر خاموشی اختیار کی جائے تو اسے غیر جانبداری نہیں بلکہ دہشت گردی کے حوالے سے انتخابی رویہ تصور کیا جائے گا۔













