بلوچستان: شعبہ صحت کے لیے مختص 7 ارب روپے لیپس کیسے ہوئے؟

منگل 13 جون 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہے۔ یہاں تعلیم اور صحت کے شعبے میں مسائل اس حد تک گمبھیر ہیں کہ انہیں حل کرنے کے لیے بھی سالوں درکار ہیں۔ صوبے میں صحت کی صورتحال اس قدر ناقص ہے کہ 34 اضلاع میں سے صرف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہی 2 ٹرشری کیئر اسپتال موجود ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں قائم ڈی ایچ کیوز کی حالت انتہائی ابتر ہے۔

گزشتہ سال صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے حکومت بلوچستان کی جانب سے مالی سال کے بجٹ میں 43 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی لیکن محکمہ صحت کی نااہلی کی وجہ سے 7 ارب روپے لیپس ہو گئے۔

ایک جانب سرکاری اسپتالوں میں مشینری سمیت ادویات ناپید ہیں تو دوسری جانب محکمہ صحت بجٹ میں مختص رقم بھی خرچ نہیں کر سکا جس کا اعتراف صوبائی وزیر صحت احسان شاہ نے بھی کیا۔

صوبائی وزیر صحت احسان شاہ کے مطابق محکمہ صحت کی پریکیورمنٹ کمیٹی ایک سال سے غیر فعال ہے۔ کمیٹی نے صرف اجلاس منعقد کیے جبکہ ادویات اور مشینری کی خریداری نہیں کی۔ ایک سال میں 7 سیکرٹریز کے تبادلوں سے محکمہ صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ افسوس ہوا کہ 7 ارب روپے میں سرکاری اسپتالوں میں کام ہوسکتے تھے جو نہیں ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین کا فلپائن سے متنازع سمندری علاقے میں اشتعال انگیزی فوری بند کرنے کا مطالبہ

چیف الیکشن کمشنر کی میرپور ڈویژن کے عوام سے نتخابات میں بھرپور شرکت کی اپیل

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، 37 افراد کو بچا لیا گیا، سرچ آپریشن جاری

روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے 4 سفید بونے ستاروں کا انکشاف

ویڈیو

تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی

روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے 4 سفید بونے ستاروں کا انکشاف

بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں