ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی کے ساتھ 2022 میں ہونے والے 18 نکاتی معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پارٹی نہ صرف احتجاجی تحریک شروع کرے گی بلکہ حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن میں بیٹھنے کا آپشن بھی استعمال کر سکتی ہے۔
کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف معاہدے کے ضامن ہیں، اس لیے وہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
جلد از جلد ایم کیو ایم کے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کریں گے ہو سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر مشاورت ہو رہی ہے کہ وہ 22 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی، احتجاجی تحریک کب کیسے شروع ہو اس حوالے سے باقاعدہ پریس کانفرنس کی جائے گی، جس کا فائنل فیصلہ خالد مقبول صدیقی کریں گے،… pic.twitter.com/CGhdbjE0C6
— Siddique Jan SMT (@SdqJaanSMT) July 4, 2026
انہوں نے کہا کہ مارچ 2022ء میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والا 18 نکاتی معاہدہ دونوں جماعتوں کے درمیان آخری معاہدہ تھا، تاہم اس کے کسی ایک نکتے پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کامران ٹیسوری کو کیوں ہٹایا؟ وزیراعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کا سوال
ان کے بقول، ایم کیو ایم نے نہ سندھ حکومت میں شمولیت کا مطالبہ کیا اور نہ صوبے کے وسائل پر اختیار مانگا، بلکہ صرف عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔
فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو متعدد بار یاد دہانی کرائی گئی، لیکن انہوں نے اس حوالے سے کوئی ملاقات نہیں کی، جبکہ سپریم کورٹ کے بلدیاتی نظام سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد بھی نہ ہو سکا۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ اس معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن، اختر مینگل اور خالد حسین مگسی بطور گواہ دستخط کر چکے ہیں، اس لیے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد کرائے۔
مزید پڑھیں: خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کی گورنر شپ دوبارہ ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے کی جائے اور کہا کہ یہ بھی اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا حصہ تھا۔
فاروق ستار نے واضح کیا کہ اگر ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو پارٹی کو حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں بیٹھنا ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے اور اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو ہم یہ حق استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کا 28ویں ترمیم کے ذریعے عوام کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کے 18 نکات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ایم کیو ایم پاکستان احتجاجی تحریک کا اعلان بھی کرے گی، جس کے بعد حالات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔
فاروق ستار نے وزیراعظم شہباز شریف سے کراچی کا دورہ کرنے اور عوامی محرومیوں، ناانصافیوں اور احساسِ محرومی میں مزید اضافے سے پہلے معاملہ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی احتجاجی تحریک کے حوالے سے عوام سے مسلسل رابطے میں ہے اور بعد میں وفاق کو اسے روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم ایم کیو ایم پاکستان کے لیے سیاسی بقا کا معاملہ کیوں؟
ایم کیو ایم رہنما نے آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاق سے اپنا آئینی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے، دیہی و شہری سندھ کے 60:40 تناسب پر عملدرآمد اور جعلی ڈومیسائل کے معاملے پر مشترکہ کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری معاہدے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہتے ہیں تو صدر آصف علی زرداری یا وزیراعظم شہباز شریف کو خود اس معاملے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔













