یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن نے اسرائیل مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر اپنے خلاف قائم دہشتگردی کے مقدمے کو فلسطین کے حامیوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں شرح پیدائش میں 67 فیصد کمی، اسقاط حمل عالمی اوسط سے 3 گنا زیادہ
پیرس کی عدالت پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریما حسن نے کہا کہ اگر سیاسی مخالفین کو سنسر کرنے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ خواہ کوئی فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہو یا نہیں، سب کو فرانس کی بنیادی اقدار، یعنی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
ریما حسن کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران ان کے خلاف 16 قانونی کارروائیاں شروع کی گئیں، جن میں سے 13 مقدمات مزید کارروائی کے بغیر ختم کر دیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ان کی پارلیمانی استثنا، نقل و حرکت اور ذاتی معلومات سے متعلق غیر معمولی اقدامات کیے گئے، جبکہ حراست کے دوران ان کے بارے میں گمراہ کن معلومات بھی میڈیا میں پھیلائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے مزید 8 فلسطینی شہید، مجموعی شہادتیں 73 ہزار سے متجاوز
انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران ان کی شناخت، مذہبی پس منظر اور فلسطینی نژاد ہونے سے متعلق ایسے سوالات کیے گئے جن کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے بقول یہ طرزِ عمل فلسطینیوں اور ان کے حامیوں کو مشتبہ بنا کر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ریما حسن نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات اور دیگر اقدامات کا مقصد فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو خوفزدہ کرنا اور عوامی مباحثے کو محدود کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت میں ان کا مؤقف سنا جائے گا اور اس معاملے سے اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی توجہ دی جائے گی۔
دوسری جانب فرانسیسی حکام کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ :اسکول پر اسرائیلی حملہ، 100 سے زائد فلسطینی شہید
واضح رہے کہ ریما حسن کو رواں سال اپریل میں اسرائیل مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر مبینہ طور پر دہشتگردی کی حمایت کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں سات سال قید اور ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔














