بھارتی حکومت ایک فلم سےکیوں خوفزدہ ہوگئی؟

بدھ 8 جولائی 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

3 جولائی کی رات ایک فلم بغیر کسی شور شرابے، بغیر کسی پروموشن کے چپکے سے معروف انڈین سٹریمنگ چینل زی فائیو پر آئی۔ کوئی پریمیئر، نہ ٹریلر کی دھوم، نہ اداکاروں کے انٹرویو۔ بس فلم آئی اور لوگوں نے دیکھنا شروع کر دی۔ پھر 48 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ 5 جولائی کو یہ بھارت کے او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے غائب ہو گئی۔ اتنی خاموشی سے آئی اور اتنی ہی خاموشی سے اٹھا لی گئی کہ بہت سے بھارتیوں کو تو تب پتا چلا جب وہ چلی گئی۔

فلم کا نام ہے ’ستلج‘۔اس سے پہلے اس کے 2 نام رہ چکے ہیں، پہلے گھلوگھارا، پھر پنجاب 95۔

گھلوگھارا سکھوں کی تاریخ میں ان بڑے قتل عام کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے جو ماضی میں اور خاص کر 1984 میں ان پر ٹوٹے۔ معروف سکھ گلوکار، اداکار دلجیت دوسانجھ اس فلم کے مرکزی کردار میں ہیں اور یہ انڈین پنجاب کے ایک حقیقی انسان جسونت سنگھ خالڑا کی کہانی ہے۔ ہدایت کار ہنی تریہن ہیں اور پروڈیوسر رونی سکریوالا۔

بھارتی حکومت نے جس طرح بوکھلا کر فلم ستلج کو اپنے عوام سے چھپانےکی کوشش کی، وہ حیران کن اور نہایت افسوسناک ہے۔ اس فلم کے ساتھ جو ہوا، اس سے پتا چلا کہ آج کا بھارت اپنی تاریخ کے کچھ صفحوں سے کس قدر خوفزدہ ہے۔

جسونت سنگھ خالڑا  کون تھا

پہلے مختصراً یہ سمجھ لیں کہ خالڑا آخر تھا کون، جس کی کہانی سے ریاست اتنی گھبرائی۔ 1984 وہ سال تھا جب بھارتی فوج نے آپریشن بلیو اسٹار کے تحت امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر دھاوا بولا۔ اس پر سکھ کمیونٹی میں بڑے شدید منفی جذبات پیدا ہوئے۔ اسی کےتسلسل میں وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے قتل کیا۔ اس قتل کے بعد ری ایکشن میں دہلی سمیت کئی شہروں میں سکھوں کا وہ قتل عام ہوا جس کے زخم آج تک ہرے ہیں۔

سکھوں پر جو قیامت ٹوٹی، اس کا اپنا ایک الگ سا شدید ردعمل ہوا، خونی ردعمل۔ انڈین پنجاب میں  اس کے بعد عسکریت پسندی اور ریاستی کارروائی کا ایک طویل تاریک دور شروع ہوا۔ پولیس کو کھلی چھوٹ ملی، اور ہزاروں نوجوان یا تو غائب کر دیے گئے یا مبینہ جعلی مقابلوں میں مار دیے گئے۔

جسونت سنگھ خالڑا کوئی بڑا سیاستدان یا وکیل نہیں تھا، ایک عام بینک ملازم تھا۔ جب اس کے جاننے والے ایک ایک کر کے غائب ہونے لگے تو اس نے چھان بین شروع کی۔ اس نے امرتسر اور گرد و نواح کے شمشان گھاٹوں کے سرکاری ریکارڈ کھنگالے اور جو کچھ سامنے آیا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا۔ جسونٹ خالڑا کے پاس دستاویزی ثبوت جمع ہوگئے کہ  پولیس نے ہزاروں لاشیں بے نام لاوارث قرار دے کر خاموشی سے جلا دیں۔ پورے پنجاب میں اس نے تقریباً 25 ہزار ایسے کیسوں کا اندازہ لگایا۔

یہاں خالڑا کی شخصیت کا وہ پہلو سمجھنا ضروری ہے جو اسے باقی لوگوں سے الگ کرتا ہے۔ وہ نہ دولت کے پیچھے تھا، نہ شہرت کے۔ ایک سیدھی سادی زندگی گزارنے والا آدمی جو باطن میں فولاد کی طرح مضبوط تھا۔ جب باقی سب خاموش تھے، اس نے اکیلے بھارتی ریاست کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس کی لڑائی بندوق سے نہیں، کاغذوں، ریکارڈوں اور دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے  تھی۔

   جنوری 1985 میں جسونت سنگھ خالڑا نے ایک ہنگامہ خیر پریس ریلیز جاری کی، جس نے بھارت میں تہلکہ مچا دیا۔ خالڑا نے جو ثبوت پیش کیے، اس نے ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا۔ جسونت خالڑا صرف پریس ریلیز تک نہ رہا، اس نے بھارتی  سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، اسی کی بنیاد پر سی بی آئی اور انسانی حقوق کمیشن نے تحقیقات کیں، کچھ خاندانوں کو معاوضہ ملا اور کچھ پولیس افسر سزا یاب بھی ہوئے۔ اس نے یہیں پر بس نہیں کی، کینیڈا اور برطانیہ تک جا کر یہ ثبوت دنیا کے سامنے رکھے، اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی عالمی تنظیموں نے اس معاملے کو اٹھایا۔ ایک عام آدمی نے تن تنہا وہ کام کر دکھایا جو بڑی بڑی تنظیمیں نہیں کر پاتیں۔

اس سچ کی قیمت خالڑا نے اپنی جان دے کر چکائی۔ 6 ستمبر 1995 کو اسے اغوا کر لیا گیا، تشدد کیا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ اس کی لاش کبھی نہیں ملی، کہا جاتا ہے کہ دریا میں بہا دی گئی۔ بعد میں کچھ پولیس اہلکاروں کو اسی اغوا اور قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا۔ فلم ستلج اسی آدمی کی کہانی سناتی ہے۔

فلم کیسی بنی ہے؟

دلجیت دوسانجھ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ یہ ان کی زندگی کا یادگار رول ہوگا۔ دلجیت نے  خالڑا کے کردار میں جو گہرائی اور خاموش جذباتی طاقت دکھائی ہے، اس کی بھارتی حلقوں میں بھی تعریف ہو رہی ہے۔

  خود دلجیت کا کہنا ہے کہ یہ کردار نبھانے کے بعد اسے اس سے باہر نکلنے میں ہفتہ بھر لگا، مناظر اور جذبے دیر تک اس کے ساتھ چپکے رہے۔ فلم میں ایک  سخت اور بے رحم پولیس افسر کا کردار سووندر وکی نے نبھایا ہے، خالڑا کی بیوی کا کردار گیتیکا ودیا اوہلیان نے اور سی بی آئی افسر کے روپ میں ارجن رام پال نظر آتے ہیں۔ کنول جیت سنگھ سمیت کئی اور منجھے ہوئے فنکار بھی اس میں ہیں۔ لگ بھگ پونے 3 گھنٹے دورانیے کی اس فلم کو ہدایتکار ہنی تریہن نے شور شرابے کے بجائے خاموشی اور حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیا ہے، اور یہی اس کی اصل طاقت بتائی جا رہی ہے۔

یہ فلم مووی باکس جیسی فری ویب سائٹس پر دستیاب ہے، پاکستان میں بعض فیس بک اور واٹس ایپ گروپوں نے بھی یہ شئیر کی ہے۔ میں نےرات اپنے بڑے مانیٹر پر فلم دیکھی۔ سچی بات یہ ہے کہ بہت متاثرکن، دل کو چھونے والی دلگداز فلم ہے۔ حزن، سوز اور اداسی کی گہری کیفیت چھا گئی۔ فلم کا آخری حصہ تو دل چیر دینے والا ہے۔ دلجیت دوسانجھ نے ایوارڈ وننگ اداکاری کی ہے۔

سچ سے ڈرنے والی ریاست

بھارتی حکومت سے پوچھا جانے والا  اصل سوال یہ ہے کہ اگر عدالتیں خود اس معاملے کی تصدیق کر چکی ہیں، اگر پولیس افسر سزا پا چکے ہیں، تو پھر اس کہانی پر بنی فلم سے اتنا خوف کیوں؟

یہ فلم کوئی دو دن پرانا معاملہ نہیں، دو ہزار بائیس سے سنسر بورڈ کی فائلوں میں پھنسی ہوئی تھی۔ سنسر بورڈ نےشرط رکھی کہ فلم میں بہت سے سین کاٹ دیے جائیں تب اسے سنیما میں ریلیز کی اجازت ملے گی، فلم کا نام بھی پنجاب 95 سےتبدیل کرا کر ستلج رکھوایا گیا۔ 3 سال تک یہ فلم لٹکی رہی۔ آخرکار بنانے والوں نے تھک ہار کر بغیر کسی کٹ کے سیدھا او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو پر ڈال دی، مگر وہ بھی برداشت نہ ہوئی۔

زی فائیو نے فلم ہٹاتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ’ستلج‘ فلم بھارت میں مزید دستیاب نہیں رہے گی۔ کون سے ’موجودہ حالات‘، یہ نہیں بتایا گیا۔ حکومتی ذرائع کی طرف سے یہ عذر پیش کیا گیا کہ فلم کے کچھ حصے بھارت دشمن عناصر کے کام آ سکتے ہیں، اور اسے آئی ٹی رولز کے تحت دیکھا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ کارروائی مرکزی حکومت کی سطح پر ہوئی، جبکہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے اس پابندی کی کھل کر مخالفت کی۔

بھارتی حکومت کی دوعملی ایکسپوز ہوگئی

میں سمجھتا ہوں کہ اس پورے قصے کا سب سے چبھتا ہوا پہلو یہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں ’دی کشمیر فائلز، دی کیرالہ سٹوری اور دی بنگال فائلز‘ جیسی فلمیں بنیں، جو کھلے عام ایک خاص متعصبانہ بیانیے کو پروموٹ کرتی تھیں۔ ’کشمیر فائلز‘ میں ہندو پنڈتوں کی مظلومانہ کہانیاں ہیں جن میں نہ صرف مبالغہ بلکہ بہت کچھ جھوٹ بھی شامل ہے، یہی دوسری دونوں فلموں کا معاملہ ہے۔ بی جے پی حکومت نے عوامی احتجاج کےباوجود ان فلموں کو نہ صرف سینما پر ریلیز ہونے دیا بلکہ ٹیکس وغیرہ بھی معاف کر کے مدد کی۔ وزیراعظم نریندر مودی تک نے ان کی تعریف کی۔ یہ سب فلمیں آج بھی اسی زی فائیو پر موجود ہیں جہاں سے ستلج کو ہٹا لیا گیا۔

سابق سکھ رہنما منجیت سنگھ جی کے نے بجا طور پر یہی سوال اٹھایا کہ ایک طرف نفرت پھیلانے والی فلموں کو ریاست کی سرپرستی حاصل، دوسری طرف ایک انسانی حقوق کے کارکن کی سچی کہانی کو دو دن میں بند۔ یہی وہ دو رنگی ہے جو بھارتی جمہوریت کے اس چہرے کو بے نقاب کرتی ہے جسے بڑی محنت سے سیکولرازم اور رواداری کے میک اپ سے چھپایا جاتا رہا ہے۔

اب لڑائی عدالت میں

فلم بنانے والوں نے ہار ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ پروڈکشن ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کا اگلا قدم واضح ہے، وہ عدالت جائیں گے، کیونکہ فلم کو غلط طریقے سے روکا گیا ہے اور جسے بھی اعتراض ہے وہ قانونی طور پر اسے سامنے لائے تاکہ اس کا جواب دیا جا سکے۔ زی فائیو نے بھی کہا ہے کہ وہ قانونی راستوں سے فلم واپس لانے کی کوشش کرے گی اور تخلیقی آزادی کے ساتھ کھڑی ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ بھی مگر ہے۔ اسی دوران بعض  حلقوں نے الٹی سمت میں محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک وکیل نے وزارت داخلہ میں شکایت درج کرائی ہے اور دلجیت دوسانجھ کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ کیا ہے۔ یعنی جہاں ایک طرف فلم پر پابندی کو سنسرشپ کہا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ یہی وہ کھینچا تانی ہے جو اس وقت بھارت کے اندر چل رہی ہے۔

انڈین پنجاب کیوں کھڑا ہو گیا؟

اس فیصلے کے خلاف پنجاب کی تقریباً ہر سیاسی جماعت سراپا احتجاج بن گئی۔ عام آدمی پارٹی، جو پنجاب میں برسراقتدار ہے، نے اسے صریح سنسرشپ قرار دیا اور اس کے ایک رکن پارلیمنٹ نے خوبصورت جملہ بولا کہ  جب کوئی قوم اپنی تاریخ سے ڈرنے لگے تو سنسر شپ سب سے خطرناک ہتھیار بن جاتا ہے۔

اکالی دل کے سکھبیر سنگھ بادل نے اسے محض سنسرشپ نہیں بلکہ اجتماعی یادداشت، سچائی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ کہا، جبکہ بکرم سنگھ مجیٹھیا نے کہا کہ تاریخ کو روکا نہیں جا سکتا، جتنا دباؤ گے اتنی مضبوط ہو کر ابھرے گی۔ کانگرس کے سکھپال سنگھ کھیرا نے اسے سپریم کورٹ کے تصدیق شدہ حقائق پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کے ہٹانے کو مایوس کن کہا۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سمیت کئی سکھ تنظیموں نے بھی مذمت کی۔

فلم کے ہدایت کار ہنی تریہن کا ردعمل بہت سادہ مگر گہرا تھا۔ اس نے کہا کہ اتوار کی رات فلم ہٹائے جانے کی خبر ملی تو وہ سُن ہو کر رہ گیا، اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کیا کہے۔ کاروان میگزین کے ہرتوش سنگھ بل جیسے تجزیہ کاروں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ حکومت کی مرضی کے بغیر ایسی کسی فلم کے ہٹنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سارا منظر اپنی جگہ ایک پیغام ہے کہ انڈین پنجاب اپنی اجتماعی یادداشت کو یوں مٹنے نہیں دینا چاہتا۔

خود دلجیت دوسانجھ کا ردعمل قابل غور ہے۔ اس نے کہا کہ خالڑا کے ساتھ جو ہوا، آج وہی اس کی فلم کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اب فلم ہر گھر تک پہنچ چکی ہے، لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، نوجوان اس پر بات کر رہے ہیں، اور جتنا اسے روکو گے اتنی ہی زیادہ بات ہو گی۔ اس نے تو یہاں تک بتایا کہ صبح اس نے ایک گوردوارے میں پروجیکٹر لگا کر فلم دکھائے جانے کی ویڈیو دیکھی۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جسے تاریخ بار بار دہراتی ہے۔ خبر یہ ہے کہ فلم بھارت سے باہر زی فائیو گلوبل پر اب بھی دستیاب ہے، سو دبانے کی یہ کوشش عملاً الٹی پڑ چکی ہے۔

ہمارے لیے اس میں کیا سبق ہے

اب ذرا اپنے حوالے سے بھی سوچتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ برسوں سے بھارتی جمہوریت اور اس کی رواداری کی مثالیں دیتے نہیں تھکتا تھا۔ میرے جیسے لوگ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اس چکاچوند کے پیچھے کئی فالٹ لائنز چھپی ہوئی ہیں۔ ’ستلج‘ فلم  کا معاملہ ایک بار پھر یہی ثابت کرتا ہے۔ جو ملک اپنی عدالتوں کے تسلیم شدہ سچ پر بنی ایک فلم 2 دن برداشت نہ کر سکے، وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا حق کیسے رکھتا ہے۔

اس میں ہمارے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ ہر قوم کے اپنے تاریک گوشے ہوتے ہیں جن پر بات کرتے ہوئے ریاستیں گھبراتی ہیں۔ اصل بلوغت اسی میں ہے کہ ایک معاشرہ اپنی غلطیوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھے۔

خالڑا نے ایک عام آدمی ہو کر یہ ثابت کیا کہ ایک تنہا سچا انسان بھی پوری ریاستی مشینری کو بے چین کر سکتا ہے۔ اسے مار دیا گیا، مگر اس کی آواز نہ مر سکی، بلکہ 31 سال بعد ایک فلم کی صورت میں پہلے سے زیادہ بلند ہو کر لوٹ آئی ہے۔ دعا ہے کہ سچ بولنے والوں کا یہ سلسلہ کبھی نہ رکے، اور وہ دن آئے جب کسی کو خالڑا کی طرح سچ کی قیمت اپنی جان سے نہ چکانی پڑے۔ آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیل مخالف پوسٹ پر مقدمہ، ریما حسن نے کارروائی کو فلسطین حامی آوازیں دبانے کی کوشش قرار دے دیا

’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، پاکستان کا امریکا اور ایران پر زور

بچوں کی مصنوعات آن لائن خریدتے ہیں؟ ایک غلط انتخاب جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے

شبیر احمد کی برطانیہ سے ملک بدری کا معاملہ، پاکستان نے قانونی مؤقف واضح کر دیا

افغان طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے حملوں کی ویڈیو جاری کردی

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کا مراعات سے متعلق قانون، عوام کی جانب سے شدید ردعمل

بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری

ایران کے ساتھ معاہدہ اور جنگ بندی ختم ہو چکی، ڈیل نہیں کرنا چاہتا، صدر ٹرمپ

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش