امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ (ایم او یو) ختم ہو چکا ہے اور وہ ایران کے ساتھ مزید کوئی ڈیل نہیں کرنا چاہتے۔ نیٹو اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو چکی ہے، تہران کو دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیا اور نیٹو کے بعض اتحادیوں، خصوصاً اسپین، کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیٹو کے انقرہ سربراہی اجلاس کے موقع پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ ہونے والا ایم او یو اب ختم ہو چکا ہے اور وہ ایرانی قیادت کے ساتھ مزید کسی قسم کی ڈیل نہیں کرنا چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز بند کرنے کی صورت میں ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑےگا، صدر ٹرمپ کی وارننگ
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو چکی ہے اور اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں ضرور استعمال کرتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
امریکی صدر نے ایران کو دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران کئی دہائیوں سے خطے میں عدم استحکام کا باعث بنا ہوا ہے اور اس نے ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور اس کی جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان کے بقول ایران کی قیادت “انتہائی خطرناک” ہے اور دنیا کو ایسے عناصر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گرین لینڈ اور ایران کے معاملے پر اتحاد کے کردار سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اتحادی امریکہ کے سکیورٹی خدشات، خصوصاً ایران کے معاملے پر، مطلوبہ تعاون نہیں کر رہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ
انہوں نے اسپین کو نیٹو کا “خراب شراکت دار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو اسپین کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔
ٹرمپ نے تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، لیکن ہر رکن ملک کو مشترکہ دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔













