دنیا بھر میں آن لائن خریداری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے خصوصاً بچوں کی ضروریات کی اشیا خریدنے کے لیے والدین بڑی تعداد میں ای کامرس پلیٹ فارمز کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ان پلیٹ فارمز پر فروخت ہونے والی ہر مصنوعات محفوظ یا معیاری نہیں ہوتی اس لیے والدین کو خریداری کے دوران غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ بعض مصنوعات بچوں کی جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت
صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ آن لائن مارکیٹ پلیسز پر بعض اوقات ایسی مصنوعات بھی فروخت ہوتی رہتی ہیں جنہیں مختلف ممالک کے ریگولیٹری ادارے پہلے ہی غیر محفوظ قرار دے چکے ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بچوں کی خوراک، نیند اور روزمرہ استعمال سے متعلق اشیا خریدتے وقت صرف قیمت یا ریٹنگ پر انحصار کرنے کے بجائے مصنوعات کی حفاظتی منظوری، مستند برانڈ اور سرکاری انتباہات کو بھی ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے برطانیہ میں بھی آن لائن مارکیٹ پلیسز پر بچوں کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک مصنوعات کی فروخت بدستور جاری ہے حالانکہ ان میں سے متعدد اشیا کے بارے میں سرکاری حفاظتی انتباہات جاری کیے جا چکے ہیں اور بعض کو واپس بھی منگوایا جا چکا ہے۔
برطانوی صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم وِچ؟ کی نئی تحقیق کے مطابق ایمیزون، ای بے، ٹک ٹاک سمیت مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر تیسرے فریق کے فروخت کنندگان کی جانب سے کم از کم 150 غیر محفوظ بچوں کی مصنوعات فروخت کے لیے پیش کی جا رہی تھیں۔
تحقیق میں شامل مصنوعات میں خودکار بوتل سے دودھ پلانے والے آلات، بچوں کے تکیے اور سونے کے تھیلے (سلیپنگ بیگز) شامل تھے جن کے بارے میں پہلے ہی سرکاری ادارے آفس فار پروڈکٹ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (او پی ایس ایس) حفاظتی انتباہات جاری کر چکا ہے۔
وِچ؟ میں صارفین کے تحفظ کی پالیسی کی سربراہ سو ڈیوس کا کہنا ہے کہ اس تحقیق نے واضح کر دیا ہے کہ ایسے خطرناک سامان کو تلاش کرنا اور خریدنا اب بھی انتہائی آسان ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ آن لائن مارکیٹ پلیسز کو اپنی ویب سائٹس پر فروخت ہون والی مصنوعات کی حفاظت کا قانونی طور پر ذمہ دار قرار دے۔
کن مصنوعات پر تشویش ظاہر کی گئی؟
تحقیق میں 3 اقسام کی مصنوعات کا جائزہ لیا گیا، جن میں بچوں کے سلیپنگ بیگز، خودکار فیڈرز اور نومولود بچوں کے تکیے شامل تھے۔
مزید پڑھیے: پنجاب کے ایم بی بی ایس نصاب میں بڑی تبدیلی، بچوں کی غذائیت کا مضمون لازمی شامل کرنے کا فیصلہ
یہ غیر محفوظ مصنوعات علی بابا، علی ایکسپریس، ایمیزون، ای بے، ایٹسی، ٹک ٹاک، آن بائے اور وش سمیت آٹھ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر دستیاب تھیں۔
دم گھٹنے کا خطرہ
تحقیق کے مطابق دریافت کی گئی 150 مصنوعات میں سے ایک تہائی سے زیادہ ایسی تھیں جو بچوں کو بغیر کسی مدد کے بوتل سے دودھ پلانے کے لیے تیار کی گئی تھیں حالانکہ ان میں دم گھٹنے (چوکنگ) کا واضح خطرہ موجود ہے۔
ان میں 33 لمبی نالی (اسٹرا) والے فیڈرز جبکہ 21 ایسے بوتل ہولڈرز شامل تھے جو بچے کی گردن کے گرد باندھے جاتے ہیں۔
او پی ایس ایس نے 2022 میں ہی کاروباری اداروں کو ہدایت دی تھی کہ ایسی مصنوعات فوری طور پر فروخت سے ہٹا دی جائیں مگر اس کے باوجود یہ کئی پلیٹ فارمز پر دستیاب رہیں۔
سلیپنگ بیگز اور تکیوں پر بھی خدشات
تحقیق میں 59 ایسے سلیپنگ بیگز بھی سامنے آئے جن میں یا تو ہُڈ موجود تھا یا بازو نکالنے کے لیے سوراخ نہیں تھے جبکہ 37 نومولود بچوں کے تکیے بھی فروخت کیے جا رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق ایسی مصنوعات بچوں میں دم گھٹنے اور جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے کا باعث بن سکتی ہیں جبکہ یہ برطانیہ کی این ایچ ایس کی محفوظ نیند سے متعلق ہدایات کے بھی خلاف ہیں۔
او پی ایس ایس نے دسمبر 2025 میں بچوں کے سونے والے تکیوں کے خلاف بھی حفاظتی انتباہ جاری کیا تھا کیونکہ بعض مصنوعات کو بچوں کی رات کی نیند بہتر بنانے کے دعووں کے ساتھ فروخت کیا جا رہا تھا۔
’بچوں کی جانیں خطرے میں ہیں‘
سو ڈیوس کا کہنا تھا کہ آن لائن پلیٹ فارمز جانتے ہیں کہ یہ مصنوعات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں اس کے باوجود وہ انہیں صارفین تک پہنچنے سے نہیں روک رہے۔
مزید پڑھیں: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پروڈکٹ ریگولیشن اینڈ میٹرولوجی ایکٹ کے تحت حاصل نئے اختیارات استعمال کرتے ہوئے آن لائن مارکیٹ پلیسز پر واضح قانونی ذمہ داری عائد کرے تاکہ تیسرے فریق کی جانب سے فروخت ہونے والی ہر مصنوعات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے۔
تنظیم کی جانب سے والدین کو اہم مشورے
بچوں کے لیے کسی بھی قسم کا خودکار فیڈنگ آلہ ہرگز استعمال نہ کریں۔
ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوتے وقت تکیہ استعمال نہ کریں۔
ایسا سلیپنگ بیگ نہ خریدیں جس میں ہُڈ، بازوؤں کے بغیر ڈیزائن یا اضافی کپڑا اور لوازمات موجود ہوں۔
ہمیشہ بچے کے قد اور عمر کے مطابق مناسب سائز کا سلیپنگ بیگ خریدیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی، ولیکا اسپتال میں درجنوں بچوں میں ’ایچ آئی وی‘ کا انکشاف، سندھ ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی
ادارے کے مطابق بچے کے سونے کے لیے سب سے محفوظ جگہ ایک سخت اور ہموار گدا ہے جہاں بچہ کمر کے بل لیٹا ہو اور پالنے میں کھلونوں یا غیر ضروری اشیا کی موجودگی نہ ہو۔
کمپنیوں کا ردعمل
تحقیق کے بعد متعدد آن لائن پلیٹ فارمز نے دعویٰ کیا کہ وِچ؟ کی نشاندہی پر متعلقہ مصنوعات ہٹا دی گئی ہیں۔
ایمیزون نے کہا کہ صارفین، خصوصاً والدین، اس پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ بچوں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے، اور نشاندہی ہونے پر مصنوعات فوری ہٹا دی جاتی ہیں۔
علی بابا نے کہا کہ تمام غیر معیاری مصنوعات ہٹا دی گئی ہیں اور فروخت کنندگان کو قوانین سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
علی ایکسپریس نے بھی متعلقہ مصنوعات برطانوی مارکیٹ سے ہٹانے اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا۔
ای بے کا کہنا تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور ماہر ٹیموں کی مدد سے غیر محفوظ مصنوعات کی نگرانی کرتا ہے اور مزید مشابہ اشیا بھی ہٹائی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: کاہنہ ٹیوشن سینٹر واقعہ: جاں بحق بچوں کے والدین کیا کہتے ہیں؟
ایٹسی، ٹک ٹاک اور آن بائے نے بھی تمام نشاندہی شدہ مصنوعات ہٹانے اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا اعلان کیا جبکہ وش اور برطانوی محکمہ برائے کاروبار و تجارت کی جانب سے خبر لکھے جانے تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔














