پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، جن کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ تاہم، بلوچستان کے بہادر عوام اور سیکیورٹی فورسز نے ان بزدلانہ کارروائیوں کا دلیری سے مقابلہ کیا۔
مانگی ڈیم آپریشن اور دہشت گردوں کا جانی نقصان
بدھ کو بلوچستان کی حالیہ سیکیورٹی صورتحال پر اہم پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی عمل میں لائی۔ مانگی ڈیم کے علاقے میں کی جانے والی مؤثر کارروائی کے دوران ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 15 خارجیوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری
انہوں نے بتایا کہ خضدار کے علاقے میں بھی فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے معصوم عوام کو نشانہ بنایا، لیکن فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
بلوچستان کے علاقے زیارت میں مانگی ڈیم کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر فتنۂ الخوارج نے حملہ کیا۔ ہماری بہادر پولیس فورس نے جوانمردی سے مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں 15 خارجی مارے گئے، جبکہ 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
بعد ازاں خوارج وہاں سے 18 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔ جب افواج… pic.twitter.com/JplI3LIqEv— WE News (@WENewsPk) July 8, 2026
پولیس جوانوں کی عظیم قربانی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کارروائیوں اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کے دوران پولیس کے 9 بہادر جوان شہید ہوئے۔
دہشت گردوں کا اصل ہدف اور عزائم
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضع کیا کہ ’فتنہ الخوارج‘ کے دہشتگردوں کا اصل مقصد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر ملک میں انتشار اور خوف کی فضا پیدا کرنا تھا، لیکن عوام اور سیکیورٹی فورسز کے غیر متزلزل عزم نے دشمن کے ان تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔
صوبے میں امن و امان کی بحالی اور بقایا دہشت گردوں کے خاتمے تک آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
بلوچستان دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے، افغان رجیم سہولت کار ہے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر انتہائی اہم حقائق سامنے لاتے ہوئے واضع کیا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشتگردی کے پیچھے براہِ راست بھارت ملوث ہے، جبکہ ان دہشتگردوں کو افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی اور سہولت کاری حاصل ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دشمنوں کو بلوچستان اور پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی، لیکن اس جنگ میں فتح ہماری ہی ہوگی کیونکہ ہم ’حق پر ہیں‘۔
فورسز کا بھرپور تعاقب، 54 دہشتگرد ہلاک اور 42 جوانوں کی شہادت
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جب سیکیورٹی فورسز کا گھیرا تنگ ہوا تو بزدل دہشتگردوں نے پولیس کے 27 جوانوں کو شہید کر دیا۔
پاک فوج اور ایف سی کے جوانوں نے دہشتگردوں کا پیچھا کیا اور بھرپور جوابی کارروائی میں 54 دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کیا، جبکہ ابتدائی جھڑپوں میں 26 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ بلوچستان میں 3 مختلف آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 42 جوانوں نے وطن پر جان قربان کی۔ خاران اور دالبدین کے علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔
معصوم بچوں کو یرغمال بنانے پر زیارت کے پہاڑوں میں آپریشن
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ ’فتنہ الخوارج‘ کے دہشتگردوں کے پاس ہمارے معصوم بچے یرغمال تھے، جن کی رہائی کے لیے سیکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی حساس آپریشن کا آغاز کیا۔
انہوں نے بتایا کہ زیارت کے پہاڑوں میں فورسز اور خارجیوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ اب بھی چل رہا ہے اور اس کارروائی میں اب تک متعدد خوارج مارے جا چکے ہیں۔
غیر قانونی افغانوں کی بے دخلی اور دہشتگردوں کو سخت وارننگ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان رجیم کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو ان کی پشت پناہی حاصل ہے، لہٰذا اب تمام غیر قانونی افغانوں کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینکا جائے گا۔
انہوں نے دہشتگردوں سے مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ہمارے بچوں پر ہاتھ ڈالیں گے اور آپ سمجھتے ہیں ہم بات چیت کریں گے؟ آپ صرف اسے ڈرا سکتے ہیں جو ڈرتا ہو‘۔
انہوں نے عزم دہرایا کہ ہم دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا آخری حد تک پیچھا کریں گے، وہ جہاں بھی ہوں گے انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے گا اور دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائی بلا تعطل جاری رہے گی۔














