پیدائشی شہریت کے معاملے پر سپریم کورٹ سے دوبارہ سماعت کی درخواست کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیدائشی شہریت کے معاملے پر سپریم کورٹ سے اپنے حالیہ فیصلے پر دوبارہ سماعت کی درخواست کریں گے۔

یہ اعلان سپریم کورٹ کے گزشتہ ماہ آنے والے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس میں عدالت نے ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کو مسترد کردیا تھا جس کے تحت غیرقانونی طور پر یا عارضی بنیادوں پر امریکا میں مقیم والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی شہریت کے قانون پر کشمکش، ٹرمپ کا ممکنہ عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ’امریکی شہریت فروخت کے لیے نہیں ہے،‘ اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض اسپتال بیرون ملک سے آنے والی حاملہ خواتین کو امریکا میں بچوں کی پیدائش کی ترغیب دے رہے ہیں، جسے انہوں نے’برتھ ٹورازم‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے فوری طور پر اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی درخواست کریں گے۔

 

دوسری جانب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے اور امریکی قانون کے دائرہ اختیار میں آنے والے افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے۔

 چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس آئینی تشریح پر ایک صدی سے زائد عرصے سے عمل کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’برتھ ٹورازم‘: امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت پر پابندیوں کی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش مسترد کر دی

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے مکمل سماعت کے بعد دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں شاذ و نادر ہی منظور کی جاتی ہیں، اس لیے ٹرمپ کو اس معاملے میں قانونی طور پر سخت چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش صدر ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کا اہم حصہ رہی ہے، تاہم عدالت نے آئین کی بنیاد پر اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے موجودہ تشریح برقرار رکھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں