امریکا میں پیدائشی شہریت کے قانون پر جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متنازع بیان کو شیئر کرتے ہوئے اس معاملے کو بھارت اور چین سے بھی جوڑ دیا۔
امریکی صدر نے ایک معروف مبصر مائیکل سیویج کے پوڈکاسٹ کو دوبارہ شیئر کیا، جس میں پیدائشی شہریت کے اصول پر گفتگو کی گئی تھی۔ اس پوڈکاسٹ میں بھارت اور چین کا بطور خاص ذکر بھی سامنے آیا، جس نے اس بحث کو مزید حساس بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ انتظامیہ کی پیدائشی امریکی شہریت کا حق محدود کرنے کی کوشش، سپریم کورٹ سے نظرثانی کی درخواست
اس سے قبل رواں ماہ امریکی سپریم کورٹ میں ایک اہم مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کے اس صدارتی حکم نامے کو چیلنج کیا جا رہا ہے جس کے تحت ایسے بچوں کو شہریت دینے سے انکار کیا گیا ہے جو امریکا میں پیدا ہوں لیکن ان کے والدین عارضی ویزے پر مقیم ہوں یا غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہوں۔
صدر ٹرمپ نے پیدائشی شہریت سے متعلق ممکنہ عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت نے اس معاملے میں حکومت کے خلاف فیصلہ دیا تو اس سے امریکا کو نہ صرف بھاری مالی نقصان ہوگا بلکہ اس کی ساکھ اور وقار بھی متاثر ہوگا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسا فیصلہ امریکا کے لیے ’وقار کا نقصان‘ ثابت ہوگا، اور اس کے اثرات مالی معاملات سے کہیں زیادہ گہرے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی شہریت اب صرف پیدائش سے نہیں ملے گی، سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیدیا
یہ معاملہ امریکا میں امیگریشن پالیسی، آئینی حقوق اور قومی شناخت کے حوالے سے ایک بڑی قانونی اور سیاسی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات آئندہ انتخابات اور پالیسی سازی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔














