عالمی چیمپئن فرانس نے کائلیان ایمباپے کی شاندار کارکردگی کی بدولت مراکش کو 2-0 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا، جہاں اس کا مقابلہ بیلجیم یا اسپین میں سے کسی ایک ٹیم سے ہوگا۔
فرانس کے کپتان کائلیان ایمباپے نے اگرچہ پہلے ہاف میں ایک پینلٹی ضائع کر دی، تاہم دوسرے ہاف میں شاندار انداز میں گول کر کے اپنی غلطی کا ازالہ کیا، جبکہ عثمان ڈیمبیلے نے صرف 6 منٹ بعد دوسرا گول کر کے فرانس کی فتح یقینی بنا دی۔
27 سالہ ایمباپے ورلڈ کپ میں اپنے کیریئر کا 20واں میچ کھیلنے والے فرانس کے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے، جبکہ انہوں نے ورلڈ کپ میں اپنا 20واں گول بھی اسکور کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ورلڈ کپ میچز کھیلنے کے حوالے سے سابق فرانسیسی کپتان ہیوگو لوریس کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے ورلڈ کپ 2026: مراکش کو بڑا دھچکا، اسماعیل صیباری فرانس کے خلاف کوارٹر فائنل سے باہر
ایمباپے اس ٹورنامنٹ میں 8 گولوں کے ساتھ ارجنٹائن کے لیونل میسی کے ہمراہ مشترکہ طور پر سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، جبکہ ورلڈ کپ کی مجموعی تاریخ میں وہ میسی سے صرف ایک گول پیچھے ہیں۔
فرانس کے ہیڈ کوچ دیدیئے دیشان نے فتح کے بعد کہا کہ مسلسل تیسری بار سیمی فائنل تک پہنچنا خوش آئند ہے، لیکن ہر مرحلے پر بہترین کھیل پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایمباپے کی پینلٹی ضائع ہونا ایک مشکل لمحہ تھا، تاہم وہ کبھی اعتماد نہیں کھوتے اور ٹیم آج بالکل اسی مقام پر ہے جہاں پہنچنا چاہتی تھی۔
دیشان نے بتایا کہ ٹخنے پر معمولی چوٹ لگنے کے باعث ایمباپے کو میچ کے آخری لمحات میں میدان سے باہر بلا لیا گیا، تاہم ان کی حالت تشویشناک نہیں۔
2022 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے اعادے کے طور پر کھیلے گئے اس مقابلے میں فرانس نے ابتدا ہی سے کھیل پر گرفت مضبوط رکھی۔ دفاعی انداز اپنانے والی مراکش کی ٹیم پورے پہلے ہاف میں ایک بھی شاٹ ہدف یا ہدف سے باہر نہ لگا سکی، جبکہ اسے زخمی فارورڈ اسماعیل صیباری کی کمی بھی شدت سے محسوس ہوئی۔ مراکش نے میچ میں پہلی بار 84ویں منٹ میں ہدف پر شاٹ لگایا۔
4 سال بعد فرانس کو شکست دینے کی امید
مراکش کے کوچ محمد وہبی نے شکست پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم اگلے مرحلے تک پہنچنے کی خواہش رکھتی تھی، تاہم فرانس ایک مضبوط اور تجربہ کار ٹیم ثابت ہوئی۔ ان کے بقول فرانس نے زیادہ بہتر مواقع پیدا کیے، جبکہ ان کی ٹیم میں تازگی اور تخلیقی کھیل کی کمی رہی، اس لیے شکست کو قبول کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مراکش مستقبل میں مزید مضبوط ہو کر واپس آئے گا اور ممکن ہے کہ 4 سال بعد فرانس کو شکست دینے میں کامیاب ہو۔ واضح رہے کہ مراکش 2030 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی اسپین اور پرتگال کے ساتھ مشترکہ طور پر کرے گا۔
میچ کے آغاز میں فرانس نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور ایمباپے نے ابتدائی منٹوں میں ایک خطرناک شاٹ لیا، جسے مراکش کے گول کیپر یاسین بونو نے شاندار انداز میں روک دیا۔
28ویں منٹ میں فرانس کو ایمباپے کی بدولت پینلٹی ملی، لیکن بونو نے درست سمت کا انتخاب کرتے ہوئے ان کی کمزور شاٹ روک لی۔ یورو 2020 کے بعد قومی ٹیم کی جانب سے یہ ایمباپے کی پہلی ضائع شدہ پینلٹی تھی۔
پہلے ہاف کے اضافی وقت میں فرانس کے لوکاس ڈینے کی طاقتور شاٹ کراس بار سے ٹکرا گئی، جبکہ مراکش کی ٹیم پورے پہلے ہاف میں فرانس کے دفاع پر خاطر خواہ دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی۔
دوسرے ہاف کے 60ویں منٹ میں ایمباپے نے پنالٹی ایریا کے قریب سے خوبصورت خم دار شاٹ کے ذریعے گول کر کے فرانس کو برتری دلائی۔ اس کے صرف 6 منٹ بعد عثمان ڈیمبیلے نے ایمباپے کی عمدہ موومنٹ سے پیدا ہونے والی جگہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زور دار شاٹ پر گیند جال میں پہنچا دی اور اپنی ٹیم کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ یہ ٹورنامنٹ میں ڈیمبیلے کا پانچواں گول تھا۔
میچ کے بعد ایمباپے نے کہا کہ ابھی مشن مکمل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ٹیم کو کسی بھی مرحلے پر اپنی رفتار کم نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اصل امتحان ابھی باقی ہے، تاہم انہیں یقین ہے کہ فرانس اگلے مقابلے کے لیے بھرپور تیاری کرے گا۔












