مملکت خداداد پاکستان کو ان دنوں جس سب سے بڑے فتنے کا سامنا ہے وہ فتنۃ الخوارج ہے. خارجیوں کی جماعت ایسے عناصر پر مشتمل ہے کہ جو افواج پاکستان کے خلاف اپنی لڑائی کو جہاد سمجھ کر لڑ رہی ہے اور اس لڑائی کو جہاد کا سرٹیفکیٹ دینے کے لیے انہوں نے پاکستان کو کفر کا سرٹیفکیٹ دے رکھا ہے۔ خوارج کا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان ایک کفریہ نظام ہے جس کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا جائز اور ضروری ہے۔ وہ اسی بیانیے کی بنیاد پر نوجوانوں بالخصوص مدارس سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ورغلاتے ہیں اور انہیں اپنی اس مکروہ لڑائی کا ایندھن بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس فکر کا پرچار پاکستان میں ٹی ٹی پی، جماعۃ الاحرار و حافظ گل بہادر گروپ جیسے دھڑے کرتے ہیں اور ان کی پشت پناہی افغان طالبان کر رہے ہیں۔
یہ سوچ صرف اور صرف جہالت، لاعلمی، بے جا جذباتیت اور خدائے ذولجلال کی جانب سے عقل و ایمان کے سلب ہوجانے کا لازمی نتیجہ ہے ورنہ یہ کبھی بھی اس عظیم اسلامی ریاست کو ’کفریہ‘ کہہ کر یہ اس کے خلاف بغاوت کا علم بلند نہ کرتے۔ یہ ہدایت کے نور کا سینوں سے نکل جانا اور رسول اللہ ﷺ کی پھٹکار کے مصداق ہونے کی علامت ہے کہ کوئی مسلح گروہ کسی اسلامی ریاست پر کفر کا فتویٰ لگائے اور اس کے خلاف مسلح بغاوت شروع کر دے۔
اگر نور ولی ملعون کی ناجائز ذریت کا یہ دعویٰ تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان کی حدود میں موجود ان لاکھوں علماء کرام کو غلط ماننا پڑے گا جو مملکت خداداد پاکستان کو اسلامی ریاست تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ان تمام کبار علماء کرام کو گمراہ، درباری اور دین فروش ماننا پڑے گا کہ جنہوں نے ’پیغام پاکستان‘ پر دستخط کر کے اس مقدس ریاست کے اسلامی ہونے پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اگر ان خارجی ملاعین کی بات کو تسلیم کر لیا جائے تو حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کے فتویٰ کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرنا پڑے گا کہ جس میں انہوں نے برملا اس ریاست کے اسلامی ہونے اور اس کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو حرام قرار دیا ہے۔
احسان فراموش افغان طالبان، ان کے ڈی این اے میچ کردہ سگے بھائی ہنود، ان دونوں کے باپ اسرائیل اور ان تینوں کے حرام نطفے سے جنم لینے والے خوارج کو کوئی بتلائے کہ ظالمو! یہ ملک نہ صرف اسلامی ہے بلکہ ایسا اسلامی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جب اس کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا تو ایسے ایسے مہتم بالشان انتظامات فرمائے کہ جو ریاست مدینہ کے بعد، آج تک روئے زمین پر کسی بھی اور ریاست کو عطا نہیں ہوئے۔
خدائے ذوالجلال نے جب پاکستان کو وجود بخشنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے خیال کے لیے جس شخص کو چنا وہ قرآن کریم میں غوطہ زن علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالٰی کو چنا جس نے محض کلمے کی بنیاد پر اس کی ضرورت کو پہلی مرتبہ بیان فرمایا، اس کے لیے لوگوں کی زبان پر نعرہ مقرر فرمایا تو ’لا الہ الا اللہ‘ کے اسی نعرے کو منتخب فرمایا کہ جو ریاست مدینہ کے لیے مقرر فرمایا گیا تھا، اس کے بنانے والے لشکر کی قیادت کے لیے جس انسان کو چنا وہ حضرت قائد اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کو چنا کہ جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب جیسے جلیل القدر بزرگوں کی رہنمائی میں چل چل کر ایسے بنے کہ ان کے فرامین میں جا بجا قرآن کریم کے حوالے بھرے پڑے ہیں، یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کس قدر بڑا احسان تھا کہ حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی زبان پر بار بار یہ جاری فرما دیا کہ اس ملک کا دستور مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا دستور تو چودہ صدیاں قبل اسلام کی آمد کے وقت ہی لکھا جا چکا ہے۔ یہ وہ تاریخی جملہ ہے جس نے تاقیامت اس ملک کے اسلامی ہونے پر مہر ثبت کر دی۔
پھر آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فیصلوں پر غور کرتے جائیے اور اس ملک پاکستان کی قسمت پر رشک کرتے جائیے کہ اس مالک کل کائنات نے جب اپنی کائنات میں پاکستان کو بنانے کا فیصلہ فرمایا تو اس کی پیدائش کے لیے جو مہینہ مقرر فرمایا وہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا، اس کے وجود میں آنے کے لیے جس رات کو مقرر فرمایا وہ لیلۃ القدر اور شب جمعہ کی نورانی رات تھی، اس کے ظہور کے لیے جس دن کو مقرر فرمایا وہ سب دنوں کا سردار جمعۃ المبارک کا مقدس دن تھا۔ اور جب خدائے بزرگ و برتر نے اس کی بنیادیں اٹھانے کا فیصلہ فرمایا تو سولہ لاکھ مہاجر مسلمانوں کے پاکیزہ لہو پر اس کی بنیادیں اٹھائیں تاکہ ان شہادتوں کے طفیل تاقیامت اس کی بنیادوں کو کوئی ملعون ہلا نہ پائے۔
یہ ملک وجود میں آیا تو جن علماء کرام کی رائے مختلف تھی انہوں نے بھی اس پر ایسے ایسے تاریخی کلمات ارشاد فرمائے کہ جو رہتی دنیا تک صفحہ قرطاس کو ضیاء بخشتے رہیں گے۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنی جیسے نابغہ روزگار اللہ والے نے پاکستان کا ذکر فرمایا تو یوں گویا ہوئے ’مسجد کے بننے میں تو اختلاف ہوسکتا ہے کہ کہاں اور کسی بنائی جائے، اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں لیکن جب مسجد تعمیر ہوجائے تو اس کا ادب، احترام اور تعظیم سب پر لازم ہے۔‘ اللہ اللہ اللہ کیا ہی خوبصورت کلمات تھے جو ان کی زبان سے ادا ہوئے کہ یہ اس ملک کو تاقیامت ایک مسجد سے تعبیر فرما کر اس کے تقدس کو واضح فرما دیا۔
پھر اس عظیم ملک کے وجود میں آ جانے کے بعد اس کا پرچم لہرانے کی باری آئی تو مغربی پاکستان میں جس شخص کو حضرت قائد اعظم رحمہ اللہ نے منتخب فرمایا وہ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالٰی اور مشرقی پاکستان میں جس شخص کو منتخب فرمایا وہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالٰی تھے۔ یہ بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا خاص انعام اور اشارہ تھا کہ اس ملک کا وجود علماء کرام کی زیر سرپرستی آیا ہے اور انہی کے سرپرستی میں یہ ملک تاقیامت باقی رہے گا۔ اور پھر جب اس ملک کا آئین طے کرنے کی باری آئی تو اس وقت کے چوٹی کے علماء کرام کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جمع فرمایا اور ان کی سرپرستی میں ایسا عظیم الشان اسلامی آئین اس ملک کے لیے طے ہوا کہ جس کی مثال روئے زمین پر کسی بھی اور ملک میں نہیں ملتی۔
آج پوری دنیا میں نظر دوڑائیں جو دینی آزادی ملک پاکستان میں ہے وہ کسی بھی اور ملک میں نہیں، جو مدارس و مساجد کا نیٹ ورک یہاں ہے وہ کسی بھی اور ملک میں نہیں، جو تبلیغی جماعت کا مستحکم نظم یہاں ہے وہ کسی بھی اور ملک میں نہیں، جو حفاظ اور علماء کی بہار اس ملک میں ہے وہ کسی بھی اور ملک میں موجود نہیں، جو اسلام دشمنوں کو آناً فاناً دھول چٹانے اور مسلمانوں کے سب سے مقدس مقامات حرمین شریفین کی حفاظت کرنے کی جو اہلیت پاکستان میں ہے وہ کسی بھی اور ملک کے پاس نہیں، اور خدانخواستہ اگر کوئی بھی قانون خلاف شرع یہاں سامنے آئے تو اسے ختم کرنے کا جو اختیار دینی اداروں کو یہاں حاصل ہے وہ کسی بھی اور ملک میں موجود نہیں ہے۔
اس سب کے باوجود اگر کوئی کوڑھ مغز، احمق اور جاہل یہ کہتا ہے کہ یہ کفریہ ریاست ہے اور اس کے خلاف جہاد جائز ہے تو ایسے شخص کی سوچ پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا خوارج کے اس مکروہ پروپیگنڈہ سے ذرہ برابر بھی متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اپنے پاکستانی ہونے کو خدا کی نعمت سمجھیے، اپنی قسمت پر رشک کیجیے اور اپنے عظیم اسلامی ملک پر فخر کیجیے اور ہر شر پسند کو یہ پیغام دیجیے کہ ہمارے جسموں میں خون کے آخری قطرے تک ہم اپنے اس مقدس وطن کا دفاع کریں گے، ہماری افواج کے عظیم مجاہدین ان ملعون خارجیوں کا تعاقب جاری رکھیں گے، اور یہ فتنہ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ کر رہے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













