ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

منگل 14 جولائی 2026
author image

غالب نہاد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جہاز نے جیسے ہی بیجنگ کی سرزمین کو چھوا، کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی ایسے ملک میں داخل ہو رہا ہوں جس نے خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں حقیقت میں بدلنا بھی سیکھ لیا ہے۔ روشنیوں سے جگمگاتا شہر، خاموش مگر منظم سڑکیں، مسکراتے ہوئے اہلکار، کمپیوٹرائزڈ نظام اور ہر طرف نظم و ضبط… یہ سب کچھ صرف ایک ترقی یافتہ ملک کی تصویر نہیں تھا بلکہ ایک ایسی قوم کی کہانی تھی جس نے اجتماعی سوچ کو اپنی طاقت بنا لیا۔

چین میں گزارے گئے چند دنوں نے مجھے یہ احساس دلایا کہ ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں، تیز رفتار ٹرینوں یا جدید ٹیکنالوجی کا نام نہیں۔ ترقی دراصل ایک سوچ ہے، ایک رویہ ہے، ایک اجتماعی شعور ہے، جس میں حکومت اور عوام ایک ہی سمت میں سفر کرتے ہیں۔

پیکنگ یونیورسٹی کے سرسبز کیمپس میں جب ہم نے دیکھا کہ طلبہ موبائل فون کے ذریعے داخل ہو رہے ہیں، فٹ پاتھوں پر ہزاروں سائیکلیں بغیر تالوں کے کھڑی ہیں اور کوئی انہیں چوری کرنے کا تصور بھی نہیں کرتا، تو ذہن میں ایک ہی سوال ابھرا کہ آخر فرق کہاں ہے؟ فرق صرف قانون میں نہیں، بلکہ قانون کے احترام میں ہے۔

دیوارِ چین پر دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کا ہجوم تھا، مگر کہیں دھکم پیل نہیں، کہیں شور نہیں، کہیں کچرا نہیں۔ ہر شخص اپنے حصے کی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔ شاید اسی لیے صدیوں پرانی دیوار آج بھی اسی شان سے کھڑی ہے، جیسے قومیں صرف عمارتوں کی نہیں بلکہ اپنے کردار کی بھی حفاظت کرتی ہیں۔

شنگھائی میں بلٹ ٹرین کے پانچ گھنٹے کے سفر کے دوران سینکڑوں مسافر تھے، لیکن خاموشی ایسی جیسے ہر شخص جانتا ہو کہ دوسروں کا سکون بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ میڈیا ہاؤسز میں جدید ٹیکنالوجی تھی، مصنوعی ذہانت تھی، مگر صحافی بے روزگار نہیں تھے۔ وہاں ٹیکنالوجی انسان کی جگہ لینے نہیں بلکہ اس کی صلاحیت بڑھانے آئی تھی۔

پھر ایک ماڈل گاؤں دیکھا۔ صاف ستھری گلیاں، جدید سہولیات، سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مقامی لوگوں کی شمولیت، تیز رفتار انٹرنیٹ، بہترین انفراسٹرکچر اور ماحول سے ہم آہنگ ترقی۔ اس لمحے دل بے اختیار بلوچستان کی طرف چلا گیا، جہاں آج بھی کئی دیہات بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں۔

پھر جب وطن واپس لوٹا تو ذہن میں ایک سوال مسلسل گردش کرتا رہا کہ آخر چین اور ہمارے درمیان اصل فرق کیا ہے؟ کیا صرف وسائل کا؟ ہرگز نہیں۔ پاکستان بھی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان تو معدنیات، ساحل، زراعت اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے دنیا کے امیر ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ فرق وسائل کا نہیں، سوچ، ترجیحات اور نظام کا ہے۔

چین نے ترقی کا آغاز اس دن کیا جب اس نے قوم کو قانون کی پاسداری سکھائی، اداروں کو مضبوط کیا اور میرٹ کو ترجیح دی۔ ہم نے بدقسمتی سے دہائیوں تک شخصیات کو اداروں پر فوقیت دی، منصوبوں سے زیادہ نعروں پر سرمایہ لگایا اور قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو اہمیت دی۔

چین میں میں نے کہیں بجلی چوری نہیں دیکھی، کہیں سڑک پر کچرا نہیں دیکھا، کہیں ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی نظر نہیں آئی۔ وہاں شہری ریاست پر تنقید ضرور کرتے ہیں، مگر اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہر شخص تبدیلی چاہتا ہے، لیکن خود بدلنے کے لیے تیار نہیں۔

بلوچستان کی مثال ہی لے لیجیے۔ ہم آج بھی پینے کے صاف پانی، معیاری تعلیم، بنیادی صحت، روزگار اور محفوظ شاہراہوں جیسے بنیادی مسائل پر بحث کر رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ آج بھی تعطل کا شکار رہتا ہے، نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں، جبکہ دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خلائی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

ہم اکثر اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار صرف حکومتوں کو قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ حکومتیں اپنی جگہ جواب دہ ہیں، مگر ایک معاشرہ صرف حکمرانوں سے نہیں بنتا۔ جب تک شہری قانون کو اپنی سہولت کے مطابق مانیں گے، ٹیکس چوری کو ذہانت سمجھا جائے گا، سفارش کو حق اور میرٹ کو استثنا تصور کیا جائے گا، اس وقت تک ترقی صرف تقریروں اور منصوبوں کی فائلوں تک محدود رہے گی۔

چین نے مجھے یہ سکھایا کہ قومیں ایک دن میں عظیم نہیں بنتیں۔ وہ روزانہ چھوٹے چھوٹے درست فیصلوں، ایمانداری، نظم و ضبط، محنت اور اجتماعی شعور سے اپنی تقدیر لکھتی ہیں۔

میرے سوٹ کیس میں چین سے خریدے گئے تحائف ضرور تھے، مگر ان سے کہیں زیادہ قیمتی ایک احساس تھا۔ احساس یہ کہ اگر ایک قوم چند دہائیوں میں غربت سے نکل کر دنیا کی بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے، تو ہم کیوں نہیں؟

شاید اس سوال کا جواب بیجنگ یا شنگھائی میں نہیں، بلکہ ہمارے اپنے رویوں، ہماری ترجیحات اور ہمارے اجتماعی کردار میں پوشیدہ ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے