امریکا اور ایران کے درمیان 2 روز تک جاری رہنے والے مہلک حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں وقتی طور پر جنگ بندی قائم ہو گئی ہے، جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے بدستور پُرعزم ہے اور تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دو روزہ شدید فوجی جھڑپوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں فی الحال ہتھیار خاموش ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات وقتی طور پر کم ہوئے ہیں۔
War is escalating again in the Middle East just weeks after a ceasefire, as new Iranian strikes raise fears the conflict is entering a dangerous phase. Israel remains on high alert for possible attacks on strategic targets, including U.S. refueling tankers at Tel Aviv’s Ben… pic.twitter.com/N2OTCzgxMB
— Jerusalem Dateline (@JlemDateline) July 10, 2026
ذرائع کے مطابق مختلف ثالث ممالک دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطے بحال رکھنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ مؤثر بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے کسی وسیع تر تصادم سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت بھی بدستور جاری ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بھی گر گئیں
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ موجودہ جنگ بندی نے فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائی ہے، تاہم خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان جامع سیاسی اور سفارتی معاہدہ ناگزیر ہوگا۔














