امریکا اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بھی نیچے آگئیں۔ سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری رہنے اور رسد میں اضافے کے امکانات کو قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق جون میں جنگ بندی پر مبنی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) سے متعلق معاملات پر ہونے والی بات چیت میں ’مثبت پیشرفت‘ ہوئی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات تعمیری رہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن کے لیے کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ قطر کی وزارت خارجہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کاروں کے درمیان اگلا دورِ مذاکرات 9 جولائی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی نمازہ جنازہ کے بعد منعقد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 77 سینٹ یا 1.1 فیصد کمی کے بعد 70.80 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 84 سینٹ یا 1.2 فیصد سستا ہو کر 67.74 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اس سے ایک روز قبل بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد یہ گزشتہ 4 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کھلی رہنے اور تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہنے سے عالمی منڈی میں رسد بڑھنے کے خدشات مضبوط ہوئے ہیں، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ ہیٹونگ فیوچرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سپلائی میں اضافے کے امکانات اور مارکیٹ میں حصہ بڑھانے کی مسابقت خام تیل کی قیمتوں کو نیچے لا رہی ہے۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس کے رکن ممالک اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اگست سے تیل کی پیداوار کے مقررہ اہداف میں مزید اضافے کی منظوری دے سکتے ہیں، جس سے بھی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی سرمایہ کاری بینک یو بی ایس نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی پیش رفت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے برینٹ خام تیل کی قیمتوں کا اپنا تخمینہ کم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے خلیج میں تیل کی ترسیل بحال، عالمی منڈی میں خام تیل سستا
بینک نے ستمبر کی سہ ماہی کے لیے برینٹ کی اوسط قیمت کا تخمینہ 25 ڈالر جبکہ دسمبر کی سہ ماہی کے لیے 10 ڈالر کم کر دیا ہے۔ یو بی ایس کے مطابق اب رواں سال کی دوسری ششماہی میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 80 ڈالر فی بیرل اور 2027 میں 75 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔
تاہم بینک نے خبردار کیا ہے کہ حالات کو مکمل طور پر معمول پر آ جانا تصور کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خلیج فارس آنے والے تیل بردار جہازوں کی تعداد اب بھی وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں کے مقابلے میں کم ہے، جس کے باعث مستقبل میں قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔














