امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے نامعلوم فضائی مظاہر یعنی یو ایف اوز اور یو اے پیز سے متعلق نئی دستاویزات، ویڈیوز، تصاویر اور آڈیو ریکارڈنگز جاری کر دیں جن میں ایک تجربہ کار فوجی ہوا باز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایسا پراسرار فضائی جسم دیکھا جس جیسی چیز اسے اپنی 28 سالہ فوجی خدمات کے دوران کبھی نظر نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے گئے اس نئے مجموعے میں 40 فائلیں شامل ہیں جن میں 14 دستاویزات، 19 ویڈیوز، 4 آڈیو فائلیں اور 3 تصاویر شامل ہیں۔ یہ ریکارڈ پنٹاگون کے علاوہ ناسا، سی آئی اے، ایف بی آئی اور امریکی محکمہ توانائی سمیت مختلف اداروں سے حاصل کیا گیا ہے۔
یہ تمام مواد پینٹاگون کی خصوصی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت یو ایف اوز سے متعلق ریکارڈ مرحلہ وار عوام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔
جوہری تنصیب کے قریب پراسرار شے کی موجودگی
جاری کردہ دستاویزات میں ایک رپورٹ خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی، جس میں بتایا گیا کہ ستمبر 2015 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر امیریلو کے قریب واقع پینٹیکس نامی جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کے فضائی علاقے میں ایک نامعلوم شے داخل ہوئی۔
مزید پڑھیے: فلپائن میں پراسرار روشنی: یو ایف او یا کچھ اور، ہارورڈ پروفیسر نے کیا بتایا؟
رپورٹ کے مطابق 2 سکیورٹی اہلکاروں نے اس شے کا تعاقب کیا جبکہ احتیاطاً جوہری تنصیب کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
اہلکاروں کے مطابق وہ اس پراسرار شے تک پہنچنے میں ناکام رہے تاہم جب وہ اپنی گاڑی سے اتر کر دوربین کے ذریعے اسے دیکھنے لگے تو انہوں نے نوٹ کیا کہ اس سے کوئی آواز پیدا نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا روایتی انجن یا پروپلشن سسٹم دکھائی دے رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک سے 2 منٹ تک مشاہدے کے بعد وہ شے شمال کی سمت روانہ ہوگئی اور نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
بحر اوقیانوس میں پراسرار فضائی جسم
فائلوں میں سنہ 2020 کا ایک واقعہ بھی شامل ہے جس میں امریکی بحریہ کے ایک اہلکار نے بحرِ اوقیانوس کے اوپر ایک ایسی شے دیکھنے کی اطلاع دی جس کا رنگ گہرا سرخی مائل تھا اور جس کی اونچائی تقریباً 12 سے 15 فٹ بتائی گئی۔
مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
رپورٹ کے مطابق یہ شے کسی حد تک بگڑے ہوئے غبارے جیسی دکھائی دیتی تھی تاہم عملہ اس کی اصل نوعیت کی تصدیق نہ کر سکا۔
’28 برس میں ایسا کبھی نہیں دیکھا‘
جاری کردہ فائلوں میں 2019 کا ایک اور واقعہ بھی شامل ہے جس میں ایک فوجی ہوا باز نے مشرقی امریکا کی فضائی حدود میں 4 دیگر اہلکاروں کے ساتھ ایک نامعلوم شے دیکھنے کی اطلاع دی۔
ہوا باز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ فضائیہ اور بحریہ میں 28 برس کی سروس کے دوران میں نے کبھی ایسی پروازی خصوصیات رکھنے والی کوئی چیز نہیں دیکھی۔
اس کے مطابق ایک چھوٹی سی شے ان کے طیارے کے نیچے انتہائی تیز رفتاری سے مخالف سمت میں سیدھی لائن میں حرکت کر رہی تھی۔ انہوں نے تقریباً 10 سے 15 سیکنڈ تک اس کا مشاہدہ کیا اور ویڈیو بھی ریکارڈ کی لیکن جب انہوں نے تصویر واضح کرنے کے لیے زوم کیا تو وہ شے اتنی تیزی سے منظر سے غائب ہوگئی کہ دوبارہ دکھائی نہ دے سکی۔
بعد ازاں ویڈیو کا جائزہ لینے پر وہ شے مستطیل شکل کی محسوس ہوئی، تاہم زیادہ تجربہ رکھنے والے دیگر اہلکار بھی اس کی شناخت نہ کر سکے۔
سال2025 کے واقعات بھی شامل
جاری شدہ فائلوں میں سال 2025 کے چند واقعات بھی شامل ہیں جن میں چین کے قریب بحیرہ زرد اور مشرقی بحیرہ چین میں فوجی سینسرز کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے نامعلوم فضائی اجسام کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک ویڈیو میں چھ نوکیلے ستارے سے مشابہ ایک پراسرار شے دکھائی گئی جبکہ دوسری ویڈیو میں ایک نامعلوم جسم کو کئی منٹ تک ٹریک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سنہ1949 کی پراسرار ’سبز آگ کے گولے‘
تاریخی دستاویزات میں 1949 میں امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شہر لاس الاموس میں ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس کا ریکارڈ بھی شامل ہے جس میں مین ہیٹن پراجیکٹ سے وابستہ ممتاز سائنس دانوں نے جوہری تحقیقی مرکز کے اوپر نظر آنے والے سبز آگ کے گولوں کی وجہ جاننے کی کوشش کی تھی۔
کچھ ماہرین نے انہیں شہابیے قرار دیا تاہم ایک معروف ماہر فلکیات نے کہا کہ اس نوعیت کا مظہر پہلے کبھی شہابیوں کے ساتھ نہیں دیکھا گیا۔
مزید فائلیں بھی جاری ہوں گی
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ یہ انکشافات کا آخری مرحلہ نہیں بلکہ صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت یو اے پیز سے متعلق مزید ریکارڈ بھی جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟
تاہم امریکی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اب تک جاری ہونے والی کسی بھی دستاویز یا ویڈیو میں ایسی کوئی حتمی شہادت موجود نہیں جو ان نامعلوم فضائی مظاہر کو ماورائے زمین مخلوق یا ایلینز سے جوڑتی ہو۔














