امریکا اور ایران میں نئی کشیدگی، خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ایک ماہ کی بلند ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔

سرمایہ کاروں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھنے کے باعث برینٹ خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے۔

بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 4.06 ڈالر، یعنی 5.34 فیصد اضافے کے بعد 80.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 3.74 ڈالر یا 5.24 فیصد اضافے کے ساتھ 75.15 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کر دیا، مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیجے جانے والے تمام بحری کارگو پر امریکا کو 20 فیصد ادائیگی کی جائے گی، یہ اعلان ایران کے ساتھ حالیہ فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں واشنگٹن کی مداخلت قبول نہیں کرے گی۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ادھر اقوام متحدہ کے بحری امور کے ادارے نے ٹرمپ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی آبناؤں پر کسی قسم کی لازمی فیس عائد کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں، اس لیے ایسی کسی بھی تجویز کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کا بحران، جنگ بندی خطرے میں پڑنے کے خدشات سے تیل مہنگا ہو گیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں طویل مدت تک رکاوٹ کا خدشہ برقرار رہا تو تیل درآمد کرنے والے اور برآمد کرنے والے ممالک اس اہم بحری گزرگاہ پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنوں کی گنجائش میں توسیع کے ذریعے 2028 کے اختتام تک جنگ سے قبل خلیجی ممالک کی 60 فیصد سے زائد تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

بینک کے اندازے کے مطابق 2027 کے اختتام تک آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی پائپ لائنوں کی گنجائش میں یومیہ 38 لاکھ بیرل جبکہ 2028 کے اختتام تک مجموعی طور پر یومیہ 73 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوگا، جس سے متبادل برآمدی صلاحیت 2028 کے آخر تک 1 کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فوجی جوان محض تنخواہ کے لیے جان نہیں دیتے، شہدا کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے، خواجہ آصف

پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی اور سائبر سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم