امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں اور ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک تیل کی فراہمی میں دوبارہ خلل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف فضائی حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 3 تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کیے۔ آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 1.38 ڈالر، یعنی 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 75.54 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.37 ڈالر اضافے کے بعد 71.81 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
منگل کو بھی دونوں اہم بینچ مارکس میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب امریکا نے ایرانی حملوں کے بعد ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا عمومی لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔
مارکیٹ ریسرچ ادارے ایم ایس ٹی مارکی کے سربراہِ تحقیق ساؤل کاوونک نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے مارکیٹ کو یاد دلا دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کا راستہ اب بھی انتہائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس تاثر کے برعکس ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی اضافی فراہمی آنے والی ہے۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہتی ہے اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے 50 فیصد سے کم رہتی ہے تو سپلائی میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی تھیں، جبکہ تاجروں نے تیل کے مستقبل کے سودوں میں بڑی تعداد میں قیمتوں میں کمی کی توقع پر شرطیں لگانا شروع کر دی تھیں۔

مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ توقع بھی تھی کہ مشرق وسطیٰ میں ذخیرہ شدہ اضافی تیل بڑی مقدار میں عالمی منڈی میں آ جائے گا۔
ایران نے تجارتی جہازوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم قطر نے ان واقعات میں ایران کو ذمہ دار قرار دیا۔ ان حملوں میں ایک قطری مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ٹینکر بھی شامل تھا، جس کے انجن روم میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع دی گئی۔
سمندری سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سعودی پرچم بردار ایک خام تیل بردار جہاز، جسے سپر ٹینکر وادیان قرار دیا جا رہا ہے، عمان کے قریب متاثر ہوا، تاہم فوری طور پر نقصان کی وجہ واضح نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیے جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی، آئل ٹینکر نشانہ بن گیا
ان واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی سلامتی کے حوالے سے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی توانائی کی ترسیل اسی اہم بحری راستے سے ہوتی تھی۔
ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کر رہا ہے اور اس نے جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمان کے قریب راستے کے بجائے ایرانی ساحل کے قریب سے گزرنے والے راستے کو استعمال کریں۔ دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ بحری گزرگاہ پہلے کی طرح تمام ممالک کے لیے آزاد رہنی چاہیے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد کئی ممالک نے عالمی سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے تیل کے ذخائر استعمال کیے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 3 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 24 لاکھ بیرل کمی متوقع تھی۔













