اللہ بخشے ہمارے ایک وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ فساد خلق کے ڈر سے ان کا نام لکھنے سے گریز کر رہا ہوں۔ ایک وقت تھا کہ وہ پاکستانی سیاست کو گند سمجھتے تھے اور وہ اس گند میں پڑنا نہیں چاہتے تھے۔ پھر ’کسی‘ نے ان کی ذہن سازی کی، انھیں باور کروایا گیا کہ وہ ہی اس قوم کے نجات دہندہ بن سکتے ہیں۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ واقعی اپنے آپ کو اس قوم کا واحد نجات دہندہ سمجھنے لگے، ایسا نجات دہندہ جو ماضی میں کبھی اس قوم کو نصیب ہوا نہ ہی مستقبل میں کبھی نصیب ہوگا، وہ ایسا وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنے لگے جو ہمیشہ ایوانِ اقتدار میں رہے گا۔ ایک روایت کے مطابق وہ دنیا کے سب سے طویل المدت حکمران بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ اس حوالے سے انھوں نے سوچا کہ جب وہ وزیر اعظم بنیں گے تو دنیا میں سب سے طویل عرصہ تک حکمرانی کرنے والے موجودہ حکمرانوں سے ٹپس لیں گے۔
ان خوابوں کی تکمیل کے لیے انھوں نے درگاہوں پر حاضریاں دینا شروع کردیں، مزاروں کی دہلیزوں پر ماتھا رگڑنا شروع کردیا۔ مختلف پیروں اور پیرنیوں سے دعائیں منگوانا شروع کردیں اور وظائف لینا شروع کردیے۔
ان کے ذہن میں ایک ہی سودا سمایا ہوا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اس غرض سے انہوں نے اپنے مخالفین کو زیر کرنے اور خود کو زبر کرنے کے لیے ایسی پراپیگنڈا مہم چلائی جس کی پاکستانی سیاست میں نظیر نہیں ملتی۔ اپنے حق میں ملک کی تمام موثر شخصیات کے ایسے جعلی وائس نوٹس تیار کروائے جنھیں سن کر وہ موثر شخصیات بھی سر پکڑ کے بیٹھ گئی کہ یہ بات انھوں نے کبھی کہی نہیں، حتیٰ کہ اس کا خیال بھی نہیں گزرا لیکن وائس نوٹس میں آواز ہوبہو انہی کی ہوا کرتی تھی۔ تب دنیا ’ڈیپ فیک‘ اور آڑٹیفیشل انٹیلی جنس کے نام اور کام سے آشنا ہوئی۔
اُن دنوں پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کا ایسا ہی ایک جعلی وائس نوٹ وائرل ہوا۔ جنرل صاحب تردیدیں کرتے تھک گئے لیکن وہ جعلی وائس نوٹ لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد کے کانوں میں اتر چکا تھا۔ ایسے میں جنرل صاحب اپنی تمام تر تردیدوں کے ساتھ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ ایسے ہی وائس نوٹس دیگر شخصیات کے بھی تیار کیے گئے۔ انھوں نے بھی تردیدیں کیں لیکن کون کان دھرتا ان پر۔
اپنے آپ کو قوم کا ’نجات دہندہ‘ سمجھنے والے اور اس کے ساتھیوں نے اپنے مخالفین کو پسپا کرنے کے لیے ان کے خلاف ایسے ’خوفناک‘ اعداد و شمار کی بنیاد بیانیہ تیار کیا جس نے دکھوں کی ماری اس قوم کو مزید خوفزدہ کیا، وہ بیانیہ خوب وائرل ہوا لیکن کسی کے پاس غور و فکر کا وقت نہیں تھا کہ جن اعدادوشمار کی بات ہورہی ہے، وہ حقیقت بھی ہیں یا نہیں۔
نجات دہندہ نے ایک کام نہیں کیا، جو بہرصورت ضروری تھا۔ انھوں نے جعلی اعدادوشمار پر مبنی بیانیہ تیار کرلیا لیکن وزیراعظم بننے کے بعد کی تیاری نہ کی کہ وہ بطور حکمران کیسے ڈیلیور کریں گے۔ اگرچہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو ’وژنری‘ کہا جاتا تھا لیکن وہ معمولی سا بھی وژن نہیں رکھتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ وہ حکمران بننے کے بعد کی تیاری نہ کرسکے۔
قریباً دو عشروں بعد جب’نجات دہندہ‘ صاحب وزیراعظم بنے تو وہ ایک عجب نشہ سے سرشار ہوئے۔ ان کی حرکات و سکنات کسی یوٹیوبر سے مختلف نہ تھیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان کی صلاحیت بھی ایک یوٹیوبر سے زیادہ نہ تھی۔ جسے زیادہ سے زیادہ ویوز اکٹھے کرنے کی فکر ہوتی ہے اور اسی کے لیے تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ لوگوں پر سحر طاری کرنے والا بیانیہ تیار کرتا ہے اور پھر اپنے ہمنواؤں کے ساتھ بیٹھ کر منصوبہ بندی کرتا کہ صبح آٹھ بجے یہ ٹرینڈ چلے گا اور پھر دس بجے وہ ٹرینڈ چلے گا۔ ہر دو گھنٹے بعد ایک نئے ٹرینڈ کا عنوان اور پلان صبح آٹھ بجے کی ایک میٹنگ میں طے پاتا تھا۔
’نجات دہندہ‘ کو بس ایک ہی چسکا تھا کہ انھیں ہر طرف سے ’جناب وزیراعظم‘، ’ڈیئر پرائم منسٹر‘ پکارا جاتا رہے۔ چنانچہ ان کے ساتھی صبح سے شام تک انھیں اسی انداز میں پکارتے۔ ان کی اہلیہ بھی دن اور رات کے مختلف اوقات میں انھیں کہتیں کہ آپ ’وزیر اعظم پاکستان‘ ہیں۔ پھر ’نجات دہندہ‘ صاحب قیمتی شیروانی پہن کر، مزید ہینڈسم بننے کی کوشش میں بڑے سے آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے، بالوں میں انگلیاں پھیرتے، اپنے ہی سحر میں مبتلا مسکراتے ہوئے کہتے: ’ہممم میں وزیراعظم پاکستان ہوں۔۔۔۔۔‘ اور پھر کمرے میں ہر طرف دیکھتے اور دیواروں سے داد وصول کرتے۔
آج مجھے یہ ’نجات دہندہ‘ بے طرح یاد آئے جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک بار پھر کپتان بننے والے بابر اعظم کا بیان میری نظر سے گزرا۔
کپتان بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے لیے روانگی سے قبل اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک بار پھر طویل فارمیٹ میں پاکستان کی قیادت کی ذمہ داری ملنے پر ’فخر‘ محسوس کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ ذمہ داری ملنے پر خود کو ’اعزاز یافتہ‘ سمجھتے ہیں۔
ہماری کرکٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بھی قومی ٹیم میں شامل ہونے والا ہر کھلاڑی پہلے دن ہی سے کپتان بننے کے خواب دیکھنا شروع کردیتا ہے۔ خواب دیکھنے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی لیکن اس کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے جو حرکتیں کی جاتی ہیں، وہی ہماری کرکٹ ٹیم کی ناکامیوں کا سبب ہیں۔
جب ایک ٹیم میں گیارہ کے گیارہ کھلاڑی کپتان بننے کی جدوجہد میں لگ جائیں، دعائیں اور دوائیں کرتے رہیں کہ موجودہ کپتان کی قیادت میں ٹیم کو شکست ہوجائے، کیچ چھوڑنے لگیں، جلد آؤٹ ہونے لگیں، چوکے چھکے کھانے لگیں کہ موجودہ کپتان کی قیادت میں ٹیم کو کسی بھی صورت جیتنا نہیں چاہیے تو پھر پاکستان کرکٹ کیسے جیت سکتی ہے؟
اور۔۔۔۔۔ پھر جب ایسے نوجوان کپتان بنیں گے ۔۔۔۔۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر مسکراتے ہوئے بولا کریں گے ’میں کپتان ہوں‘۔۔۔۔ ’جی ہاں! میں کپتان ہوں‘۔۔۔۔ اور پھر اسی سحر میں مبتلا رہ کر شب و روز گزاریں تو پاکستان کرکٹ کیسے جیت سکتی ہے؟
دوسری طرف اس کپتان کو بھی ٹیم میں کپتانی کے دس خواہش مندوں کا سامنا رہے تو پھر پاکستان کرکٹ کیسے جیت سکتی ہے ؟
بلاشبہ کپتان بابر اعظم بہترین اور اسٹائلش بلے باز ہیں۔ اور۔۔۔ شاید ان سے بہتر کپتان اس وقت ٹیم میں موجود نہیں ہے۔ بس! وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر، بطور کپتان اترانا چھوڑ دیں۔ ایک بڑی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ہے۔ انھیں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
کپتانی ان کے لیے باعثِ فخر تب ہوگی جب ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کامیابیاں سمیٹنا شروع کردے اور پھر ناقابل شکست بن جائے۔ تب یہ کپتانی ان کے لیے اعزاز اور فخر کا باعث ہوگی۔
اس مرحلے پر ٹیم کے باقی دس کھلاڑیوں سے کپتان بننے کا خواب چھین لینا چاہیے۔ یہ کام چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہے۔ اگر انھیں ذرا سی بھی بھنک پڑے کہ کوئی کپتانی کا خواب دیکھ رہا ہے، اس کے لیے موجودہ کپتان کی ٹانگ کھینچنے کی معمولی سی بھی کوشش کر رہا ہے، اسے فوراً کان سے پکڑ کر نکال باہر کریں بصورت دیگر ایسے ’لیگ پُلرز‘ کے سامنے بڑے سے بڑا کپتان بھی چاروں شانے چت نظر آئے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔









