پاکستانی فلمیں عالمی پلیٹ فارمز تک کیوں نہیں پہنچ پاتیں؟

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلم ’نایاب‘ کو ملنے والے حالیہ بین الاقوامی اعزازات اور ملک گیر پسندیدگی کے بعد اب ہر جگہ ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ ہم یہ فلم کب اور کہاں دیکھ سکتے ہیں اور کیا یہ انٹرنیٹ پر دیکھنے کے لیے دستیاب ہوگی۔ یہ سوال ظاہر کرتا ہے کہ فلم کی تعریف لوگوں تک پہنچ چکی ہے، لیکن ناظرین کے پاس اسے دیکھنے کا کوئی سیدھا راستہ موجود نہیں ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی تخلیقی کام کی کامیابی کا پہلا قدم ناظرین کی اس تک آسان رسائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلمیں ’دیمک‘ اور ’نایاب‘ ایس سی او فلم فیسٹیول 2025 میں نمایاں

ہمارے خطے میں انٹرنیٹ پر فلمیں دکھانے والے بڑے عالمی اداروں کا تمام تر انتظام پڑوسی ملک کے دفاتر سے چلایا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا بہترین تخلیقی کام بھی وہاں کی کاروباری ترجیحات، قوانین اور سیاسی حالات کی نذر ہو جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین سیاسی سرد مہری کے باعث ہمارے منصوبوں میں بلاوجہ تاخیر کی جاتی ہے، فیصلے لٹکا دیے جاتے ہیں اور ہمارے کام کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، وہاں کی عام معیار کی فلمیں بھی بہت آسانی سے دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچ جاتی ہیں۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ فلمیں صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دنیا کے سامنے کسی بھی معاشرے کا بیانیہ پیش کرتی ہیں۔ جب دنیا پاکستان کے بارے میں صرف دوسروں کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھتی ہے، تو ہمارے ملک کے بارے میں ایک مخصوص اور یکطرفہ تاثر قائم ہو جاتا ہے۔ ہمارے پاس بہترین کہانیاں اور جدید ترین تکنیکی صلاحیت موجود ہے، لیکن کمی صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا براہ راست راستہ نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈین فلم فیسٹیول لاس اینجلس میں پاکستانی سینما کا چرچا، 3 فلمیں اعزاز کی حق دار

اس تعطل کو توڑنے کے لیے حکومتِ پاکستان کو سب سے پہلے عالمی نشریاتی اداروں کے مرکزی دفاتر سے براہ راست رابطہ قائم کرنا چاہیے تاکہ کسی تیسرے ملک پر ہمارا انحصار ختم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایسا سرکاری انتظام کرنا ضروری ہے جہاں دنیا بھر کے خریداروں کو بلا کر پاکستانی فلمیں اور ہمارے شائقین کی تعداد کے اعداد و شمار پیش کیے جا سکیں۔

ہمیں اپنی فلموں کی کم لاگت کو ایک کاروباری طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ایک بہترین فلم دنیا کے مقابلے میں انتہائی کم سرمائے میں تیار ہو جاتی ہے۔ آخر میں، ہمیں فلموں کی فروخت اور تقسیم سے وابستہ عالمی نمائندوں کے لیے پاکستان میں ایک بڑا اجلاس منعقد کرنا چاہیے تاکہ وہ ہمارے مقامی فلم سازوں سے براہ راست معاہدے کر سکیں اور ہماری فلمیں بغیر کسی رکاوٹ کے دنیا بھر میں دیکھی جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلمیں بالی ووڈ کی طرح پرانے گانے کیوں استعمال نہیں کرتیں؟ فائزہ خان کا سوال

سینما کسی بھی قوم کی تہذیب، خوابوں اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جب تک ہم اپنی فلموں کو دنیا تک پہنچانے کے لیے قومی سطح پر مستقل اور مضبوط حکمتِ عملی نہیں اپنائیں گے، ہماری آواز عالمی منظر نامے پر دبتی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، بلوں میں 1 روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر

ٹروتھ سوشل کا نیا فیچر: بینکوں اور ٹریڈنگ کمپنیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس پہلے ملیں گی

سعودی ایئرلائن نے پشاور میں نیا دفتر کھول دیا

انڈونیشیا کے کاپی رائٹ قانون میں بڑی تبدیلی، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کو بھی تحفظ ملے گا

پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید مضبوط، قدر میں کتنا اضافہ ہوا؟

ویڈیو

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون