انڈونیشیا نے کاپی رائٹ قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری شروع کردی ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے ایسے مواد کو بھی دانشورانہ حقوق دیے جائیں گے جن میں انسانی تخلیقی کردار شامل ہو۔
اگر یہ قانون منظور ہوجاتا ہے تو انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کا پہلا ملک بن جائے گا جو اپنے کاپی رائٹ قانون میں مصنوعی ذہانت کو باضابطہ طور پر شامل کرے گا۔ دنیا بھر کی حکومتیں اس وقت مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور تخلیقی مواد کے حقوق سے متعلق قوانین پر غور کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن پلیٹ فارمز نے مصنوعی ذہانت کے کم معیار مواد کو فلٹر کرنے کی سہولت دیدی
انڈونیشیا کی وزارت قانون کے دانشورانہ املاک سے متعلق عہدیدار ہرمَنسیاہ سریگر نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ قانون کا مسودہ تیار ہے، جو ملک کے کاپی رائٹ قوانین میں مصنوعی ذہانت کو پہلی بار تسلیم کرے گا۔
مجوزہ قانون کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سوشل میڈیا مواد کے اقتباسات دوبارہ شائع کرنے اور انہیں مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کرنے پر معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ یہ رقم ایک سرکاری نگرانی میں قائم اجتماعی نظام کے ذریعے خبروں کے اداروں تک پہنچائی جائے گی۔
یہ قوانین ویڈیو گیمز، تصاویر، صحافت اور فلموں سمیت مختلف شعبوں کے مواد پر لاگو ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے مرہون منت مواد کو میٹا کمپنی کیسے ممتاز رکھے گی؟
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ مواد کو صرف اسی صورت میں کاپی رائٹ تحفظ ملے گا جب اس میں انسانی تخلیقی کردار موجود ہو، جبکہ مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے مواد کو تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔
گوگل نے مجوزہ قانون پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سخت اور وسیع پابندیاں مقامی تخلیق کاروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جدت کے عمل کو سست کرسکتی ہیں اور ملک میں ڈیجیٹل شعبے کی سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتی ہیں۔
انڈونیشیا کی یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختلف پروگرامز میں اسے شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام
انڈونیشیا ان 29 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے شنگھائی میں مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق اور تعاون کے لیے بین الحکومتی ادارہ قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین کے مصنوعی ذہانت قانون کا مقصد تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی واضح نشاندہی کرنا ہے، تاہم بعض فنونِ لطیفہ کے کاموں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔
امریکا اور سنگاپور کے کاپی رائٹ قوانین میں فی الحال مصنوعی ذہانت کا واضح ذکر موجود نہیں، تاہم وہاں کے متعلقہ ادارے واضح کرچکے ہیں کہ کاپی رائٹ تحفظ کے لیے انسانی تخلیقی اختیار ضروری ہے۔














